site
stats
انٹرٹینمںٹ

بالی وڈ فلم ’اڑتا پنجاب‘ پر سنسر بورڈ کی قینچی

ممبئی: بھارتی سنسر بورڈ نے شاہد کپور اور کرینہ کپور کی آنے والی فلم ’اڑتا پنجاب‘ میں سے کئی مناظر حذف کردیے جبکہ فلم کے نام میں سے لفظ ’پنجاب‘ کو بھی کاٹ دیا۔

سنسر بورڈ نے فلم میں پنجاب کے بجائے ایک غیر حقیقی جگہ پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ فلم میں نازیبا جملے استعمال کرنے پر فلم سے 89 مناظر کو حذف کیا گیا جبکہ نام میں موجود لفظ ’پنجاب‘ کو ہٹانے کا بھی حکم دیا ہے۔

فلم کے پروڈیوسر انوراگ کشیب نے بھارتی سنسر بورڈ کے خلاف ممبئی ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

بھارتی سنسر بورڈ کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ناموراداکاروں نے بھارتی سنسر بورڈ کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امیتابھ بچن نے کہا کہ تخلیقی صلاحیتوں اور کچھ بھی دکھانے کی آزادی ہونی چاہیئے اور ہمیں کسی بھی صورت تخلیقی صلاحیتوں کا قتل عام نہیں کرنا چاہیئے۔

عامر خان نے کہا کہ فلم منشیات کی لت پر مبنی ہے جس کا مقصد سماجی پیغام پہنچانا ہے۔ اس طرح فلم کے مناظر کو کاٹنا کسی صورت اچھا اقدام نہیں ہے۔

amul

بھارت کے ایک ڈیری برانڈ ’امل‘ نے اس ساری صورتحال کی منظر کشی نہایت طنزیہ انداز میں کی۔ امل کی جانب سے ایک پوسٹر جاری کیا گیا جس میں فلم کی کاسٹ کو کارٹون کی صورت میں پیش کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک قینچی بھی دکھائی گئی ہے جبکہ پوسٹر کا کیپشن ’لڑتا پہلاج‘ ہے۔ واضح رہے کہ پہلاج نہلانی بھارتی سنسر بورڈ کے سربراہ ہیں۔

فلم کا موضوع بھارتی پنجاب میں نوجوان نسل میں منشیات کا بڑھتا استعمال ہے۔ فلم کی ریلیز 17 جون کو متوقع ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top