خلائی مخلوق ہے یا اڑن طشتری، بیجنگ میں‌ روشنی کے ہیولے نے شہریوں کو چونکا دیا
The news is by your side.

Advertisement

خلائی مخلوق یا اڑن طشتری، بیجنگ میں‌ روشنی کے ہیولے نے شہریوں کو چونکا دیا

بیجنگ : چین میں گذشتہ شب آسمان پر دکھائی دینے والے روشنی کے ہیولے نے شہریوں کو چونکا دیا اور یہ شور مچ گیا کہ آیا یہ خلائی مخلوق، اڑن طشتری ہے یا کوئی اور شہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق کائنات میں دیگر مخلوقات بھی رہتی ہیں جنہیں خلائی مخلوق کہا جاتا ہے، اکثر و بیشتر دنیا کے کچھ ممالک میں ایسی چیزیں نظر فضا میں اڑتی ہوئی نظر آئیں ہیں جنہیں انسانوں نے اڑن طشتری تصور کرلیا۔

ایسا ہی کچھ گذشتہ روز پڑوسی ملک چین کے شہر بیجنگ میں رات کے وقت ہوا جب آسمان پر نظر آنے والے روشنی کے ہیولے نے شہریوں کو حیرت مبتلا کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ بیجنگ شہر میں دکھائی دینے والا روشنی کا ہیولا چین کے دیگر شہروں میں نظر دیکھا گیا ہے، جس کے بعد چینی شہری پریشان ہیں کہ نظر آنے والا روشنی کا ہیولا خلائی، اڑن طشتری یا کوئی اور شہ ہے۔

خلائی مخلوق حقیقت میں وجود رکھتے ہیں یا نہیں آئیے عالمی خلائی ادارے ناسا کے ایک سابق سائنسداں کیون کنتھ سے جانتے ہیں۔

کیون کنتھ کا کہنا ہے کہ خلائی مخلوق نہ صرف موجود ہیں بلکہ کئی بار انسانوں کا ان سے سامنا بھی ہوچکا ہے، جس کے بے شمار ثبوت موجود ہیں لیکن حکومتوں نے اس بات کو خفیہ رکھا ہوا ہے۔

اپنے مضمون میں انہوں نے کہا کہ ہمیں اس امکان کو تسلیم کرلینا چاہیئے کہ کچھ ایسے اجنبی اڑنے والے آبجیکٹس (آسان الفاظ میں اڑن طشتریاں) موجود ہیں جو ہمارے ایجاد کردہ ایئر کرافٹس سے کہیں بہتر ہیں۔

پروفیسر نے کہا کہ خلائی مخلوق ایک حقیقت ہیں کیونکہ ہماری کائنات میں 300 ارب ستارے موجود ہیں، اور ان میں سے کچھ یقیناً ایسے ہوں گے جہاں زندگی موجود ہوگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں