The news is by your side.

Advertisement

امریکی خفیہ ایجنسیاں اڑن طشتریوں سے متعلق کیا جانتی ہیں؟ بتانے کے لیے دن کم رہ گئے

واشنگٹن: اڑن طشتریوں سے متعلق ہم قصے کہانیاں ایک عرصے سے سنتے آ رہے ہیں، تاہم اب اس مسئلے کو امریکا میں حکومتی سطح پر قابل توجہ گردانا گیا ہے، اور اب امریکی خفیہ ایجنسیوں کو کانگریس کو بتانا پڑے گا کہ وہ یو ایف اوز (نامعلوم اڑتی چیزوں) کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔

جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر میں 2.3 ٹریلین ڈالر کے کرونا وائرس سے متعلق ریلیف اور حکومت کی فنڈنگ بل پر دستخط کیے تو امریکی خفیہ ایجنسیوں کے لیے 180 دنوں کی الٹی گنتی کا آغاز ہوا کہ انھیں اس دوران کانگریس کو یہ بتانا پڑے گا کہ وہ یو ایف او کے بارے میں کیا جانتے ہیں، کیوں کہ کو وِڈ بل میں اس سلسلے میں ایک شق شامل کی گئی ہے۔

نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر اور سیکریٹری دفاع دونوں پر اب دباؤ پڑا ہے کہ وہ کانگریسی انٹیلی جنس اور مسلح سروسز کی کمیٹیوں کو ‘نامعلوم فضائی مظاہر’ کے بارے میں ایک غیر خفیہ رپورٹ فراہم کریں۔

امریکی میڈیا کے مطابق مالی سال 2021 کے لیے انٹیلی جنس اتھارٹی ایکٹ کی ‘کمیٹی کے تبصرے’ کے سیکشن میں ایک شرط رکھی گئی ہے جس کے بعد انھیں اڑن طشتریوں سے متعلق بتانے میں 6 ماہ سے کم وقت رہ گیا ہے۔

سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی ہدایت میں کہا گیا ہے کہ اس رپورٹ کو غیر خفیہ ہونا چاہیے، تاہم اس میں ایک خفیہ ضمیمہ منسلک ہو۔ ہدایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رپورٹ میں UFO ڈیٹا کا مفصل تجزیہ اور نیول انٹیلی جنس، ایف بی آئی اور اَن آئیڈنٹیفائیڈ ایریل فنامنا ٹاسک فورس کی اکٹھی کی گئی معلومات بھی ضرور شامل ہوں۔

نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے دفتر کے ترجمان نے تصدیق کی کہ اس رپورٹ کی جانچ حقائق کی جانچ (فیکٹ چیکنگ) کرنے والی ویب سائٹ سنیپس سے کی جائے گی۔

واضح رہے کہ پچھلے سال اپریل میں پینٹاگون نے 3 مختصر ویڈیوز جاری کی تھیں، ایک 2004 کی اور دو 2015 کی، جن میں ’نامعلوم فضائی مظاہر‘ دکھائی دے رہے تھے، جن کے حقیقی ہونے کی تصدیق امریکی بحریہ نے کی تھی۔ انفرا ریڈ کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کی جانے والی ان ویڈیوز میں آسمان میں نامعلوم اڑتی چیزیں نظر آ رہی تھیں۔

ان ویڈیوز میں سے 2 کے پس منظر میں سروس کے ارکان کو تبصرہ کرتے بھی سنا جاسکتا ہے جب وہ اشیا کو دیکھ رہے ہیں اور اس پر گفتگو کر رہے تھے، ایک نے قیاس آرائی کی کہ یہ ڈرون ہو سکتا ہے۔ اگست میں پینٹاگون نے اعلان کیا کہ وہ ن اشیا کی تحقیقات کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دے رہی ہے، لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ہے کہ وہ اشیا کیا ہیں یا وہ کہاں سے آئی ہیں۔

پینٹاگون کے عہدے دار اور کانگریس کے ممبران دونوں امریکی فوجی اڈوں پر نامعلوم چیزوں کے اڑان بھرنے کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہیں، کچھ کے مطابق ویڈیو میں موجود اشیا انٹیلی جنس اکٹھا کرنے والے ڈرون ہو سکتے ہیں۔ پچھلے سال جون میں سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی نے کہا تھا کہ پینٹاگون اور انٹیلی جنس کمیونٹی اس طرح کی چیزوں کا عوامی تجزیہ فراہم کرے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں