سائبر حملوں میں روسی خفیہ ایجنسی ’جی آر یو‘ ملوث ہے، برطانیہ کا الزام cyber-attacks
The news is by your side.

Advertisement

سائبر حملوں میں روسی خفیہ ایجنسی ’جی آر یو‘ ملوث ہے، برطانیہ کا الزام

لندن : برطانوی حکومت نے ایک مرتبہ پھر روس پر الزام عائد کیا ہے کہ روس کی خفیہ ایجنسی ’جی آر یو‘ بڑے سائبر حملوں میں ملوث ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ نے ایک مرتبہ پھر روس پر الزامات کی بوچھاڑ کردی ہے، برطانیہ کی نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ سائبر حملوں میں روسی خفیہ ایجنسی ملوث ہے۔

برطانیہ کی نیشنل سائبر سیکیورٹی سینیٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی خفیہ ایجنسی کے سائبر حملوں کے متاثرین میں روس اور یوکرائن کے بڑے کاروباری مرکز، امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی اور برطانیہ کے ایک چھوٹے ٹیلیویژن نیٹ ورک بھی شامل ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ورلڈ ایٹنی ڈوپنگ ایجنسی کے کمپیوٹر بھی ان سائبر حملوں میں متاثر ہوئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ اس سے قبل جتنے بھی حملے ہوئے برطانوی حکومت نے ان حملوں میں روس کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ برطانیہ نے روس کی خفیہ ایجنسی ’جی آر یو‘ پر سائبر حملوں کا الزام عائد کیا ہے۔

برطانوی پولیس کا خیال ہے کہ رواں برس مارچ میں سالسبری میں اعصاب شکن کیمیکل حملے میں ملوث شخص جس خفیہ ایجنسی جی آر یو کا یجنٹ تھا اور اسی نے مذکورہ سائبر حملے کیے ہیں۔

برطانیہ کی نیشنل سائبر سیکیورٹی سینیٹر نے وثوق کے ساتھ دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ حملوں میں روسی ایجنسی جی آر یو ہی ملوث ہے۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے کہا ہے کہ روسی خفیہ ایجنسی جی آر یو نے بے مقصد اور خلاف اصول سائبر حملوں کی مہم کا آغاز کیا تھا جو نیشنل سیکیورٹی کے مفاد میں نہیں ہے۔

یاد رہے رواں برس 4 مارچ کو روس کے سابق جاسوس 66 سالہ سرگئی اسکریپال اور اس کی 33 سالہ بیٹی یویلیا اسکریپال پر نویچوک کیمیکل سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں دو نوں روسی شہری کئی روز تک اسپتال میں تشویش ناک حالت میں زیر علاج رہے تھے۔

خیال رہے کہ برطانوی حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ مذکورہ حملے میں ملوث دونوں ملزمان روسی ایجنسی ’جی آر یو‘ کے افسر ہیں، روسی جنرل اسٹاف اور وزارت دفاع کے سینئر ممبران نے صدارتی دفتر سے احکامات پر عمل کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں