ہفتہ, مارچ 14, 2026
اشتہار

برطانیہ میں زیادہ تر پاکستانیوں نے کس جواز کے تحت سیاسی پناہ کی درخواست دی؟ حیران کن انکشاف

اشتہار

حیرت انگیز

مانچسٹر (01 فروری 2026): برطانیہ میں سیاسی پناہ (اسائلم) کے لیے درخواستیں گزشتہ چند سالوں میں ایک نمایاں معاملہ بن چکی ہیں، اور ان میں پاکستانی شہری سب سے زیادہ تعداد میں سامنے آئے ہیں۔ 2024 میں مجموعی طور پر سیاسی پناہ کے لیے تقریباً 40,000 درخواستیں جمع ہوئیں، جن میں سے 11,000 سے زائد پاکستانی شہریوں نے دیں، جو کہ کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جن درخواستوں میں ’’جنسی رجحان‘‘ (ایل جی بی ٹی کیو) کو بطور جواز پیش کیا گیا، ان میں بھی پاکستانی شہری سر فہرست رہے، اس نوعیت کی درخواستوں میں پاکستانیوں نے سب سے زیادہ حصّہ لیا، باوجود اس کے کہ وہ مجموعی طور پر تمام پناہ گزینوں میں چوتھے نمبر پر تھے۔

برطانیہ کے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں سیاسی پناہ کی درخواستوں میں 1377 درخواستیں جنسی رجحان کی بنیاد پر دی گئیں جو کہ کُل سیاسی پناہ کی درخواستوں کا 2 فی صد تھیں، جن میں جنسی رجحان کو جزوِ دعویٰ بنایا گیا، اُن میں تقریباً 42 فی صد (578 درخواستیں) پاکستانی شہریوں کی تھیں، یعنی ایل جی بی ٹی کیو پر مبنی مجموعی دعوؤں میں پاکستان کی سب سے بڑی نمائندگی رہی۔

یہ اعداد و شمار صرف وہ کیسز ہیں جن میں جنسی رجحان کو دعوے کا حصہ بتایا گیا، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر درخواست گزار واقعی ایل جی بی ٹی کیو شناخت رکھتا ہے یا اس کا دعویٰ تسلیم کر لیا گیا ہے۔

برطانوی وزارت داخلہ نے پاکستان کے حوالے سے کنٹری پالیسی اینڈ انفارمیشن نوٹس میں واضح کیا ہے کہ کوئی بھی شخص اگر اپنی جنسی شناخت یا رجحان کی وجہ سے پاکستان میں حقیقی خطرے کا شکار ہو سکتا ہے، تو وہ پناہ کے لیے دعویٰ کر سکتا ہے، شرط یہ ہے کہ کیس کے حقائق خود اس کے دعوے کی تائید کریں، تاہم پالیسی بھی یہ واضح کرتی ہے کہ ہر دعوے کو فرد کے انفرادی حالات کے تناظر میں پرکھا جاتا ہے، اور صرف دعویٰ کرنا کافی نہیں ہوتا، ثبوت اور حقیقی خطرے کے شواہد درکار ہوتے ہیں۔

+ posts

زاہد نور اے آر وائے نیوز کے ساتھ مانچسٹر سے بطور نمائندہ خصوصی منسلک ہیں

اہم ترین

زاہد نور
زاہد نور
زاہد نور اے آر وائے نیوز کے ساتھ مانچسٹر سے بطور نمائندہ خصوصی منسلک ہیں

مزید خبریں