برطانیہ: اسکارف پہننے والی مسلم طالبہ پر نسل پرست لڑکیوں کا حملہ UK
The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ: اسکارف پہننے والی مسلم طالبہ پر نسل پرست لڑکیوں کا حملہ

لندن : برطانیہ میں اسکارف پہن کر اسکول جانے والی نوجوان طالبہ کو اسلام فوبیا کا شکار متعصب لڑکیوں نے سرعام تشدد کا نشانہ بنایا اور اسکارف بھی کھینچا۔

تفصیلات کے مطابق ان دنوں برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف متعصب سوچ اور نفرت میں اضافہ ہورہا ہے، جس کی تازہ مثال برطانیہ میں اسکارف پہننے پر تشدد کا نشانہ بننے والی اسکول کی طالبہ ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ کو مختلف ثقافتوں کی سوسائٹی کے حوالے جانا جاتا ہے، جہاں کئی مذاہب کے پیروکار زندگی بسر کررہے ہیں۔

برطانیہ میں سر پر اسکارف اوڑھنے پر اسکول کی نسل پرست دوشیزہ نے مسلمان طالبہ کو اسکارف اتارنے کا کہا اور بات نہ ماننے پر متعصب لڑکی نے مسلم طالبہ کو مصروف سڑک پر تشدد کرنا شروع کردیا اور اسکارف کھینچ کر اتار دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پوسٹ ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چند لڑکیاں ایک مسلم طالبہ کو گھیرے کھڑی ہیں اور اسکارف اتارنے کا بول رہی ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق متاثرہ لڑکی نے مشتعل لڑکیوں کو سمجھانے کی کوشش کررہی تھی کہ اسکارف دہشت گردی کی علامت نہیں بلکہ مسلمانوں کی ثقافت کا حصّہ ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جائے حادثہ پر موجود اسکول کا ایک طالب علم مسلم لڑکی کو بچانے کی کوشش کرتا ہے لیکن مشتعل لڑکیاں اسے بھی تشدد کا نشانہ بناتی ہیں جس کے بعد وہ موقع سے چلا جاتا ہے۔

سماجی وابطے کی ویب سائٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں اسکول کے طلباء اور دیگر افراد کو بھی دکھا جاسکتا ہے جو متاثرہ طالبہ کو نسل پرست لڑکیوں سے بچانے کے بجائے تشدد کی ویڈیو بنانے میں مصروف ہیں۔


مزید پڑھیں : برطانیہ میں متعصب شخص کا مسلمان خواتین پر وینش سے حملہ


یاد رہے کہ رواں برس 15 جون کو برطانیہ میں مسلمانوں نے نفرت کی بنیاد پر ایک سفید فارم برطانوی شہری نے سپر مارکیٹ میں موجود اسکارف پہنی ہوئی خواتین پر صفائی کرنے والے کیمیکل ’وینش‘ سے حملہ کردیا تھا۔


مزید پڑھیں : برطانیہ میں گینگ کے ہاتھوں تشدد سے زخمی مسلمان طالبہ دم توڑگئی


غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق رواں برس مارچ میں برطانیہ کے شہر ناٹنگھم میں خواتین کے ایک نسل پرست متعصب گینگ نے دن دیہاڑے مسلم طالبہ مریم مصطفیٰ جان کو سرعام بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے وہ شدید زخمی ہوگئی اور اسپتال میں دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوئی تھی۔


مزید پڑھیں : لندن: مسلمان خاتون کا حجاب اتارنے اور سڑک پر گھسیٹنے کی کوشش


خیال رہے کہ ایک برس قبل برطانوی دارالحکومت لندن میں اسلام مخالف دو سفید فام نوجوانوں پر مشتمل گروہ نے ایک باحجاب خاتون کو ان کے حجاب سے پکڑ کر سڑک پر گھسیٹا تھا۔

واضح رہے کہ سنہ 2016 میں بریگزٹ پر ووٹنگ کے بعد برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگزیز وارداتوں میں 23 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ سنہ 2016 اور 2017 کے درمیان مساجد پر بھی حملوں کی تعداد میں 100 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں