The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ کا لاک ڈاؤن کرنے پر غور، ایک اور وزیر نے آئسولیشن اختیار کر لی

لندن: عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کرونا کو عالمی وبا قرار دیے جانے کے بعد برطانیہ کو لاک ڈاؤن کرنے پر سوچ بچار کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر برطانیہ نے ملک میں لاک ڈاؤن پر غور شروع کر دیا ہے، برطانیہ یورپ میں وائرس سے متاثرہ ممالک میں پانچویں نمبر پر آ چکا ہے۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ این ایچ ایس روزانہ 10 ہزار افراد کے ٹیسٹ کرے گا، وائرس کے شکار افراد کی تعداد 460 ہو گئی ہے، گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 87 کیسز سامنے آئے، این ایچ ایس کے مطابق برطانیہ میں گزشتہ روز کرونا وائرس سے مزید 2 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد برطانیہ میں ہلاکتوں کی تعداد 8 ہو گئی۔

کرونا وائرس عالمی وبا قرار

ادھر وزیر اعظم بورس جانسن کی کابینہ کے ایک اور وزیر نے آئسولیشن اختیار کر لی ہے، برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیر میں فی الحال کرونا کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں، برطانوی وزیر نے کرونا کی متاثرہ خاتون وزیر صحت کے ساتھ کھانا کھایا تھا، وائرس کے خطرے کے پیش نظر وزیر نے آئسولیشن اختیار کی۔ اس وقت ایک برطانوی وزیر اور 2 ممبران پارلیمنٹ آئسولیشن میں ہیں۔

سابق اطالوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تمام یورپی ممالک کو لاک ڈاؤن کرنا چاہیے۔ ادھر آج برطانوی وزیر اعظم بورس جانس کوبرا کمیٹی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔

برطانوی محکمہ صحت کا ہلاک افراد کے متعلق کہنا ہے کہ وہ معمر اور بیماریوں کا شکار تھے، ماہرین صحت کے مطابق جوان اور صحت مند افراد کو کرونا وائرس سے کم خطرہ ہے اور ابھی تک اس وائرس نے بچوں کو بھی زیادہ نقصان نہیں پہنچایا۔ خیال رہے کہ برطانوی وزیر صحت بھی کرونا وائرس کا شکار ہوئی ہیں جس پر انھوں نے خود کو قرنطینہ میں رکھ لیا ہے۔

وزیر اعظم سمیت جن ممبران پارلیمینٹ سے وزیر صحت گزشتہ دنوں ملیں ان کی صحت کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ برطانوی وزیر خزانہ رشی سُناک نے گزشتہ روز بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کو جتنے پیسے درکار ہوں مہیا کریں گے تاکہ اس وبا پر قابو پایا جا سکے۔ ابتدائی طور پر انھوں نے کرونا سے متاثرہ معیشت کے لیے 30 ارب پاؤنڈز کا اعلان کیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں