The news is by your side.

Advertisement

برطانوی والدین بچوں پر ایک گھنٹہ بھی صرف نہیں کرتے:سروےرپورٹ

لندن:جدید سروے میں سامنے آیا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے والدین کے مقابلےمیں برطانوی ماں باپ بچوں کے تعلیمی کاموں ایک گھنٹے سے بھی کم وقت صرف کرتے ہیں‘ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اسکولوں کی حالت خراب ہورہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق دنیا کے 29 ممالک کے 27،830 والدین کا سروے کیا گیا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ان کی تعلیمی مشکلات کو حل کرنے کے لیے کتنا وقت نکالتے ہیں۔ سروے رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ برطانیہ کے صرف گیارہ فیصد والدین ہی اپنے بچوں کے ساتھ ایک گھنٹہ گزارتے ہیں‘ جو کہ انڈیا سے بھی 62فیصد پیچھے ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کم وقت صرف کرنے کے باوجود برطانیہ کے 87 فیصد ماں باپ اپنے بچوں کے لیے اچھے استاد کو اہمیت دیتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق برطانوی والدین ٹیکنالوجی اور سہولیات کے بجائے اساتذہ کو نوکری اور تنخواہ دینے میں زیادہ رقم لگاتے ہیں۔

دنیا میں سالانہ عالمی ٹیچر ایوارڈ کا انعقاد کرنے والی تنظیم ’ورکی فاونڈیشن ‘نے والدین کے ترجیحات اور رویوں کو جاننے کے لیے 29 ممالک کا سروے کیا تھا،سروے سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر ماں باپ کے رویوں میں اپنے بچوں کے مستقبل اور ان کے روزگار کے حوالے سے یکسانیت پائی جاتی ہے۔

برطانوی والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہونے کے بجائے دہشت گردی اور تنازعات پر زیادہ غور کرتے ہیں،اوریہی رویّے فرانس اور جرمنی کے والدین کے بھی تھے۔

رپورٹ کے اعتبار سے واالدین اپنے بچوں کے لیے اسکول کا انتخاب کرتے وقت اعلیٰ تعلیم کے نتایج اور اخلاقیات پر توجہ دیتے ہیں،البتہ دیگر ممالک کے مقابلے میں برطانیہ کے والدین اس بات پر زیادہ زور دیتے ہیں کہ ان کے بچّے اسکول میں خوش رہیں۔

سروے میں بتایا گیا ہے کہ چائنہ اور ویت نام جیسے ممالک میں رہنے والے والدین خوشیوں کو ترجیح دینے کی بہ نسبت معیاری تعلیم پر زیادہ توجہ رکھتے ہیں۔

ورکی فاونڈیشن کے مطابق چانیہ،انڈیا،جنوبی کوریا اور ویتنام کے والدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اسکولوں کا ماحول پہلے کی نسبت بہت بہتر ہے۔ دوسری طرف فرانس، جرمنی،اٹلی اور برطانیہ کے والدین کو لگتا ہے کہ اسکولوں کی حالت خراب ہوری ہے۔

ورکی فاونڈیشن کے چیف ایگزیکیٹو ویکاس پوتا کہتے ہیں کہ اسکولوں پر بجٹ کا دباؤ ہونے کے باوجود ’’یہ دیکھ کر دل کو اچھا لگا کہ برطانوی والدین دنیا میں سب سے زیادہ اعتماد اپنے بچوں کے اسکول کے تعلیمی معیار پر کرتے ہیں‘‘۔البتہ ویکاس پوتا کا برطانوی ماں باپ کے حوالے یہ بھی کہنا تھا کہ ’’سروے کیے گئے 29ممالک میں سے برطانیہ وہ ملک ہے جہاں والدین اپنے بچوں کی تعلیم میں مددکرنے کے لیے تھوڑا وقت ہی نکال پاتے ہیں‘‘۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں