لندن (06 جنوری 2026): غیر ملکی ہیلتھ کیئر ورکرز کے ساتھ برے رویے کا معاملہ برطانوی پارلیمنٹ پہنچ گیا ہے۔
برطانیہ میں نجی کیئر کمپنیوں کی جانب سے غیر ملکی ورکرز کے ساتھ جس قسم کا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، اس پر برطانوی ممبر پارلیمنٹ محمد یاسین نے آواز اٹھا لی ہے۔
انھوں نے کہا نجی کمپنیاں ویزے پر آئے ورکرز کا استحصال کر رہی ہیں، اسپانسر شپ فیس وصول کرنے والی نجی کیئر کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جائے، یہ کمپنیاں ویزے پر آئے کیئر ورکرز سے ہزاروں پاؤنڈ وصول کر رہی ہیں۔
وزن کم کرنے والی نئی گولیوں کی مارکیٹ میں آمد سے کیا تبدیلی متوقع ہے؟
محمد یاسین نے مطالبہ کیا کہ کمزور کیئر ورکرز کا استحصال فوری روکا جائے اور نجی کمپنیوں کو سزا دی جائے، میرے حلقے کے ورکرز سے 3600 پاؤنڈز اسپانسرشپ فیس وصول کی گئی، انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مشکوک کمپنیوں کے لائسنس معطل کر کے قانونی کارروائی کی جائے گی؟
ایوان میں برطانوی وزیر نے محمد یاسین کے مطالبے پر جواب دیا کہ مشکوک کمپنیوں کے خلاف کارروائی انتہائی اہم ہے، غیر قانونی کام کے لیے جیل کی سزائیں بھی دی جائیں گے، تاہم سوشل کیئر ویزا روکنا وقت کی ضرورت تھا۔


