اتوار, اگست 16, 2026
اشتہار

برطانیہ میں ہیٹ ویو سے 2700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے!

اشتہار

حیرت انگیز

لندن (13 جولائی 2026): انگلینڈ اور ویلز میں مئی اور جون کے دوران ہیٹ ویو سے 2700 سے زائد افراد کی جانیں گئیں۔

موسمیاتی تبدیلی نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ٹھنڈے کہلانے والے ملک برطانیہ اور یورپی ممالک میں بھی اس سال سورج نے ایسی آگ برسائی جس کی ہیٹ ویو سے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے اور وہاں نظام زندگی درہم برہم ہو گیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق انگلینڈ میں جون تاریخ کا گرم ترین مہینہ رہا، جہاں درجہ حرارت 37.7 ڈگری تک جا پہنچا۔ جب کہ مئی میں بھی گرمی کا نیا ریکارڈ قائم ہوا، جہاں درجہ حرارت 35.1 ڈگری تک ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں مئی اور جون کی ہیٹ ویو سے 2700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ہیٹ ویو سے ہونے والی زیادہ تر ہلاکتیں جون کے مہینے میں ہوئیں۔ مئی میں ہیٹ ویو سے 550 جبکہ جون کے مہینے میں ریکارڈ 2200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

برطانیہ کی تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہر کے باعث انگلینڈ اور ویلز کے کئی حصوں میں ریڈ ہیٹ الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی پریشر سسٹم یعنی ہیٹ ڈوم کے باعث گرم ہوا خطے میں محصور ہو کر رہ گئی، جس نے درجہ حرارت کا بڑھایا جب کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث موسمیاتی تبدیلیوں نے ہیٹ ویو کی شدت میں مزید اضافہ کیا۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے زیادہ تر گھر شدید اور طویل گرمی کے موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچے، معمر افراد اور پہلے سے بیمار لوگ شدید گرمی کی لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، کیونکہ ہیٹ ویو جسمانی نظام کو متاثر کرتی ہے، جس سے ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

برطانیہ اور یورپ میں شدید گرمی کی لہر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں