لندن (13 اگست 2026): برطانیہ میں ہیٹ ویو کی پانچویں لہر کے دوران غیر معمولی درجہ حرارت نے 31 برس کا ریکارڈ توڑ دیا، برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے یلو الرٹ جاری کر دیا۔
برطانیہ میں رواں سال اب تک کا گرم ترین دن آنے کا امکان ہے، کیوں کہ انگلینڈ کے بعض علاقوں میں موسم گرما کی پانچویں شدید گرمی کی لہر کے عروج پر درجہ حرارت 38 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔
محکمۂ موسمیات نے آج جمعرات کے روز صبح 9 بجے سے نصف شب تک لندن اور جنوب مشرقی انگلینڈ، ایسٹ مڈلینڈز، مشرقی انگلینڈ، ویسٹ مڈلینڈز اور ساؤتھ یارکشائر کے بعض علاقوں کے لیے نایاب ’’امبر، انتہائی گرمی‘‘ کی وارننگ جاری کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں رواں سال اب تک 35 دن ایسے گزر چکے ہیں جن میں درجہ حرارت تیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، 1995 میں ایسے 34 دن ریکارڈ کیے گئے تھے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بعض مقامات پر درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
یورپ میں گرمی کی پانچویں لہر، ہیٹ ویو کا خطرہ بڑھ گیا
محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ امبر وارننگ والے علاقوں میں درجہ حرارت تقریباً 36، 37 اور ممکنہ طور پر 38 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین نے کہا جب درجہ حرارت اس سطح تک پہنچتا ہے تو بنیادی ڈھانچے، ریلوے لائنوں اور سڑکوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیوں کہ انھیں اس قسم کی گرمی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں کیا گیا۔
اگر درجہ حرارت 38 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا تو یہ رواں سال اب تک کا گرم ترین دن ہو سکتا ہے، اور اگر یہ 38.5 ڈگری سے اوپر چلا گیا تو اگست کا ریکارڈ شدہ گرم ترین دن بھی بن سکتا ہے، تاہم اس کا امکان بہت کم ہے۔
رواں سال کا اب تک کا بلند ترین درجہ حرارت 38 ڈگری سیلسیس تھا، جو 28 جون کو نورفوک کے علاقے لنگ وُڈ میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انگلینڈ اور ویلز میں اس سال پہلے ہی اتنی ہی تعداد میں جنگلات اور جھاڑیوں کی آگ کے واقعات پیش آچکے ہیں جتنے پورے 2025 میں ہوئے تھے۔


