روسی ایجنٹ پر حملہ، عالمی رہنماؤں نے پھر برطانیہ کی حمایت کردی uk-novichok
The news is by your side.

Advertisement

روسی ایجنٹ پر حملہ، عالمی رہنماؤں نے پھر برطانیہ کی حمایت کردی

نیویارک : عالمی رہنماؤں نے سالسبری میں روسی جاسوس سرگئی اسکریپال اور بیٹی یویلیا پر کیمیل حملے کے معاملے برطانیہ کی حمایت کرتے ہوئے روس پر زور دیا ہے کہ  ’نوویچک‘ پروگرام کی تفصیلات فراہم کرے۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی حکام نے سالسبری میں سابق روسی جاسوس اور اس کی بیٹی پر ہونے والے اعصاب شکن کیمیکل حملے میں روسی ایجنسی ’جی آر یو‘ کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ امریکا، فرنس، کینیڈا اور جرمنی نے اعصاب شکن کیمیکل حملے پر برطانیہ کی جانب سے تیار کی گئی جائزہ رپورٹ پر اتفاق کیا ہے۔

مغربی اتحاد کی جانب سے روس پر زور دیا گیا ہے کہ نوویچوک منصوبہ بندی کے حوالے سے تمام تفصیلات فراہم کرے۔

مقامی میڈیا کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپال اور یویلیا اسکریپال پر ہونے والے حملے سے متعلق منعقدہ میٹینگ کے دوران روس نے برطانیہ کی جانب سے پیش کردہ تمام ثبوت کو رد کرتے ہوئے ’جھوٹ‘ قرار دیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق جی سی ایچ کیو کے سربراہ نے کہا ہے کہ برطانیہ اور اس کے اتحادی روس کے مؤقف کو رد کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ عالمی قوانین کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔

واشنگٹن میں تقریر کرتے ہوئے برطانوی حکومت کے کمیونیکیشن ہیڈکوارٹر کے سربراہ جیریمی فلیمنگ کا کہنا ہے کہ ’روس کی جانب سے دی گئی دھمکیاں حقیقی ہے اور روس اپنی دھمکیوں پر کار بند ہے‘۔

تھریسا مے، ایمنیول مکرون، انجیلا مرکل، ڈونلڈ ٹرمپ اور جسٹن ٹروڈو کی جانب سے جاری بیان ’سالسبری کے کیمیکل حملے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سے روسی حکام نے برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عائد کردہ تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’الزامات ناقابل قبول ہیں‘۔

یاد رہے کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے سابق روسی جاسوس اور اس ک بیٹی پر قاتلانہ حملے میں ملوث دو ملزمان ’الیگزینڈر پیٹروف اور  رسلین بوشیروف ‘ کے نام جاری کیے تھے، تھریسا مے نے دعویٰ کیا تھا دونوں ملزمان روسی خفیہ ایجنسی ’جی آر یو‘ کے افسران ہیں۔

خیال رہے کہ اعصاب شکن کیمیکل حملے کے معاملے پر برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے روس کے سیکڑوں سفارت کاروں کو ملک بدر کردیا تھا جبکہ روس نے بھی جواباً برطانیہ اور اتحادیوں کے سفارت کاروں کو ملک بدر کرکے قونصل خانے بند کردئیے تھے۔

یاد رہے رواں برس 4 مارچ کو روس کے سابق جاسوس 66 سالہ سرگئی اسکریپال اور اس کی 33 سالہ بیٹی یویلیا اسکریپال پر نویچوک کیمیکل سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں دو روسی شہری کئی روز تک اسپتال میں تشویش ناک حالت میں زیر علاج تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں