The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس، برطانوی نرسز اور طبی عملے کی زندگیاں‌ داؤ پر لگ گئیں

مانچسٹر: برطانیہ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی نگہداشت کرنے والے طبی عملے کو ماسک کی قلت کے باعث شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق برطانیہ میں ماسک کی قلت کے باعث نرسز ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد اپنا ماسک کسی دوسری ایسی نرس کو دینے پر مجبور ہیں جس کے پاس دورانِ ڈیوٹی ماسک کی سہولت نہیں ہے۔

این ایچ ایس اسٹاف نے ماسک کی قلت پر تشدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ایک نرس نے انکشاف کیا کہ ہمیں ہدایت کی گئی ہے کہ ہم اپنے ماسک ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں۔

انہوں نے بتایا کہ آئی سی یو میں کام کرنے والے عملے کو بھی ماسک کی قلت کا سامنا ہے، ہدایت کے مطابق ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد ہم اپنا ماسک دوسرے کو فراہم کردیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: برطانوی شہزادے چارلس میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو گئی

اسپتال میں کام کرنے والی نرس نے برطانوی وزیر اعظم اور ہیلتھ سیکریٹری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو طبی عملے کو بہت زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

طبعی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ماسک شیئر کرنے سے عملہ وائرس کا شکار ہوسکتا ہے کیونکہ اُن کی زندگیاں‌ اس وقت داؤ پر لگی ہوئی ہیں، آئندہ دو سے تین ہفتوں میں برطانیہ میں کرونا کے حوالے سے صورت حال مزید سنگین ہوجائے گی اور وائرس کا پھیلاؤ اپنے عروج پر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی حکومت نے صحت مند افراد سے رضاکارانہ طور پر مدد مانگ لی

ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وائرس کی روک تھام کے لیے پورے ملک کو ایک ماہ کے لیے لاک ڈاؤن کرنا چاہیے، تاخیر سے اقدامات کرنے پر عوام اور حکومت کو ناقابلِ تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں