The news is by your side.

Advertisement

برطانوی قوانین میں تبدیلی، شریف خاندان کے گرد پاناما کا گھیرا تنگ ہوگیا

لندن: برطانوی قوانین میں تبدیلی کے بعد شریف خاندان کے گرد پاناما کا گھیرا مزید تنگ ہوگیا ہے جسے پہلے ہی احتساب عدالت میں پیشیوں کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، نئے قانون کے رو سے برطانوی اوورسیز علاقوں میں رجسٹرڈ لاکھوں کمپنیوں کو ان کی ملکیت کے ساتھ رجسٹر کرانا لازم ہوگیا ہے۔

برطانوی قوانین میں تبدیلی کے بعد تمام آف شور کمپنیاں رکھنے والے غیر ملکیوں پر لازم ہوگیا ہے کہ وہ تفصیلات فراہم کریں، خیال رہے کہ برطانیہ کے اوورسیز علاقوں میں پاناما، برٹش ورجن آئی لینڈ، کیمن آئی لینڈ بھی شامل ہیں۔

اس تبدیلی کے بعد شریف خاندان سے منسوب نیلسن اور نیسکول کمپنیوں کے بارے میں حقیقت معلوم ہوجائے گی کہ ان کا اصل مالک کون ہے۔ اصل ملکیت سامنے آنے پر امکان ہے کہ شریف خاندان کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوجائے گا۔

پاناما کیسزکی وجہ سے ملک میں غیریقینی کی صورت حال ہے‘ نوازشریف

واضح رہے کہ برٹش ورجن آئی لینڈ میں آف شور کمپنیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جب کہ پاناما میں آف شور کمپنیوں کی تعداد چالیس ہزار سے زائد ہے اور مجموعی طور پر آف شور کمپنیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

یاد رہے کہ برطانوی حکومت نے منی لانڈرنگ کے خاتمے کے سلسلے میں غیر ملکی کمپنیوں کے اثاثے عوام کے سامنے ظاہر کیے جانے کے لیے کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ اقدام سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے عالمی بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے کی جانے والی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں