The news is by your side.

Advertisement

امپیریئل کالج کی رپورٹ نے برطانیہ کے ناقص طبی نظام کا بھانڈا پھوڑ دیا

4 سال قبل کی جانے والی مشق سے علم ہوگیا تھا کہ این ایچ ایس کسی وبا کے خوفناک پھیلاؤ سے نہیں نمٹ سکے گی

لندن: برطانوی دارالحکومت لندن کے امپیریئل کالج کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 4 سال قبل طبی نظام کو جانچنے کے لیے کی جانے والی مشق کے دوران علم ہوگیا تھا کہ برطانیہ کسی خوفناک وبا کے پھیلاؤ سے نہیں نمٹ سکے گا۔

لندن کے امپیریئل کالج کی حال ہی میں شائع کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2016 میں برطانیہ کے طبی نظام کو جانچنے کے لیے ایک مشق کی گئی تھی جس کے نتائج نہایت حوصلہ شکن اور سنگین برآمد ہوئے تھے۔

مذکورہ مشق کے دوران اس بات کی جانچ کی گئی کہ اگر سارس یا میرس جیسا کوئی وائرس برطانیہ کو اپنا شکار بناتا ہے تو آیا برطانیہ اس سے نمٹ سکے گا یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق 7 ہفتے تک جاری رہنے والی اس مشق سے پتہ چلا کہ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے پاس ساز و سامان کی بے حد قلت ہے۔ ایسے کسی وائرس کے پھیلاؤ کی صورت میں این ایچ ایس طبی عملے کو ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ای) فراہم نہیں کرسکے گی۔

مشق کے نتائج سے علم ہوا این ایچ کے پاس وینٹی لیٹرز کی بھی کمی ہے جبکہ اس قسم کی خوفناک وبا کے دوران ملک بھر کے مردہ خانے بھی بھر جائیں گے۔

اس مشق کے نتائج کبھی بھی منظر عام پر نہیں لائے گئے اور حکام کے مطابق یہ ایسے تھے بھی نہیں کہ انہیں سب کے سامنے لایا جاتا، تاہم اب اس رپورٹ کے بعد حکومت کی مجرمانہ خاموشی پر سوال اٹھ گئے ہیں کہ اس وقت کے سیکریٹری ہیلتھ جرمی ہنٹ اور ان کی انتظامیہ نے ان نتائج پر ایکشن کیوں نہیں لیا۔

مذکورہ مشق میں فرض کیا گیا کہ ایک خطرناک وائرس سیاحوں کے ایک گروپ کے ساتھ برطانیہ پہنچا اور اس کے بعد یہ دیکھا گیا کہ اسٹاف کی کمی اور مریضوں کی بڑھتی تعداد کے ساتھ این ایچ ایس کا ردعمل کیا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق مشق میں وائرس کو ابتدائی مرحلے میں فرض کیا گیا اس کے باوجود این ایچ ایس کا نظام بیٹھتا دکھائی دیا۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ رپورٹ کو سامنے لائے بغیر حکومتی ارکان خاموشی سے طبی نظام کو بہتر کرنے پر کام کرسکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں