(23 جنوری 2026): ڈنمارک اور آسٹریلیا کے بعد اب برطانیہ میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگنے جا رہی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈنمارک اور آسٹریلیا کے بعد اب برطانیہ بھی 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پرپابندی لگانے کے لیے متحرک ہو گیا ہے اور اپوزیشن جماعت کے پیش کردہ بل کو ہاؤس آف لارڈز کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا نے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکنے کے حق میں ووٹ دیا ہے جس کے بعد حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ آسٹریلیا میں نافذ کردہ قانون کو اپنائے۔
کنزرویٹو پارٹی کے رکن جان نیش کی پیش کردہ ترمیم بدھ کے روز ایوانِ بالا میں منظور کر لی گئی جس کے حق میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے گئے۔
وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ کسی بھی آپشن کو رد نہیں کر رہے اور انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم ان کی حکومت قانون سازی سے پہلے موسمِ گرما میں متوقع مشاورت کے نتائج کا انتظار کرنا چاہتی ہے۔
حکومتی جماعت اور اپوزیشن دونوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ برطانیہ بھی آسٹریلیا کی پیروی کرے جہاں 16 سال سے کم عمر بچوں کو دسمبر سے سوشل میڈیا ایپس کے استعمال سے روک دیا گیا ہے۔
مشہور شخصیات جن میں ایک معروف اداکار بھی شامل ہیں، نے حکومت سے اس تجویز کی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ والدین اکیلے سوشل میڈیا کے نقصانات کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
بچوں کے تحفظ سے وابستہ کچھ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ ایسی پابندی لوگوں کو تحفظ کا غلط احساس دے سکتی ہے۔ دسمبر میں کیے گئے ایک عوامی سروے کے مطابق برطانیہ کے 74 فیصد عوام اس پابندی کے حامی ہیں۔
آن لائن سیفٹی قانون کے تحت نقصان دہ مواد کے لیے عمر کی تصدیق کا محفوظ نظام لازمی قرار دیا گیا ہے۔
زاہد نور اے آر وائے نیوز کے ساتھ مانچسٹر سے بطور نمائندہ خصوصی منسلک ہیں


