The news is by your side.

Advertisement

برطانوی وزیراعظم پارلیمنٹ کوجوابدہ ہیں، نہ کہ امریکی صدر کو، جیریمی کوربن

لندن : برطانیہ کی لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم تھریسا مے کو ارکان پارلیمان نے منتخب کیا ہے اس لیے وہ امریکی صدر کے سامنے نہیں بلکہ برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہیں.

تفصیلات کے مطابق امریکا، فرانس، اور برطانیہ کی جانب سے شام میں مبینہ کیمیائی حملوں کے جواب میں کی جانے والی فوجی کارروائی کے خلاف برطانوی رکن پارلیمنٹ اور لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن نے برطانیہ کی وزیراعظم کو کھلا خط لکھا ہے۔

برطانوی لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی خط میں لکھتے ہیں کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ برطانیہ کی وزیر اعظم پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے جوابدہ ہیں تو انہیں شام کے خلاف فوجی کارروائی کرنے سے پہلے اراکین پارلیمان سے مشورہ کرکے ووٹنگ کروانی چاہیے تھی‘۔

جیریمیی کوربن کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ کی وزیر اعظم کو برطانوی پارلیمنٹ نے منتخب کیا ہے اس لیے وہ پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہیں نہ کہ امریکی صدر کی خواہشات و مرضی کی‘۔

انہوں نے خط میں لکھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ شام کے خلاف کی جانے والی برطانیہ، فرانس اور امریکا کی تازہ کارروائیاں قانونی طور پر مشکوک ہیں، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی اس بات کی طرف نشاندہی کی تھی کہ تمام ممالک عالمی قوانین کے چارٹر کے مطابق چلیں‘۔

جیریمی کوربن نے خط میں برطانوی وزیراعظم سے کہا کہ ’آپ نے مجھے یقن دہانی کروائی تھی کہ اٹارنی جنرل نے شام پر حملے کے حوالے واضح مشورہ دیا تھا، میں چاہوں کا گا کہ آپ آج اس منظوری کو شائع کردیں‘۔

جیریمی کوربن نے لکھا ہے کہ ’اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے ادارے ’او پی سی ڈبلیو‘ نے تاحال ڈوما میں کیمیائی حملوں کی نہ ہی تحقیق کی ہے اور نہ ہی حملوں کی تصدیق کی ہے، اس لیے یہ بات تو واضح ہے کہ تمام سفارتی اور غیر فوجی ذرائع کا مکمل طور پر استعمال نہیں کیا گیا ہے‘۔

لیبر پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’یہ بات بہت ضروری ہے کہ تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار(او پی سی ڈبلیو) کے تفتیش کار جو ڈوما پہنچیں گے، پہلے انہیں ان کا کام کرنے دیا جائے اور کیمیائی حملوں سے متعلق مرتب کردہ رپورٹ کو شائع کرنے دیا جائے‘۔

جیریمی خط میں کہتے ہیں کہ ’میں آپ کی جانب سے کروائی گئی یقین دہانی کا خیر مقدم کرتا ہوں کہ جب تک او پی سی ڈبلیو کے تحقیق کار شام میں موجود ہیں مزید بمباری نہیں کی جائے گی۔ انہیں بغیر کسی رکاوٹ کے کام کرنے دیا جائے‘۔

جیریمی کوربن نے خط میں لکھا کہ ’مجھے یقین کہ برطانیہ اقوام متحدہ کے ذریعے اس بدترین تنازعے کو روکنے کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کرے گا، جس میں لاکھوں افراد قتل کردیئے گئے اور کروڑوں شامی شہریوں کو بے گھر ہونا پڑا‘۔

خیال رہے کہ برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے جیریمی کوربن کو جمعے کی رات بلا کر شام پر کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی تھی۔

لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن کے اس خط سے یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ وہ شام پر حملے کے حوالے سے برطانوی وزیراعظم کی بریفنگ سے مطمئن نہیں ہیں۔


شام میں حملے کا ہدف کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کرنا تھا‘ برطانوی وزیراعظم


 

واضح رہے کہ 13 اور 14 اپریل کی درمیانی شب امریکہ نے برطانیہ اور فرانس کے تعاون کے ساتھ شام میں کیمیائی تنصیبات پر میزائل حملے کیے تھے، جس کے نتیجے میں شامی دارالحکومت دمشق دھماکوں کی آوازوں سے گونج اٹھا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں