ہفتہ, اگست 15, 2026
اشتہار

یورپ میں حملوں کی ہدایات پر برطانیہ کا ایران سے احتجاج، ایرانی ناظم الامور طلب

اشتہار

حیرت انگیز

لندن (15 جولائی 2026): یورپ میں مبینہ پراکسی حملوں پر برطانیہ نے اعلیٰ ایرانی سفارت کار کو طلب کر لیا۔

روئٹرز کے مطابق برطانیہ نے منگل کے روز لندن میں تعینات ایران کے سب سے اعلیٰ سفارت کار کو طلب کیا۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں یورپ بھر میں حملے کرنے کے لیے پراکسی گروہوں کو ہدایات دینے میں ایران کا کردار سامنے آیا ہے۔

برطانوی وزارتِ خارجہ کے مطابق، ایرانی ناظم الامور علی نسیم فر کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا، کیوں کہ الزام ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس نے مارچ سے مئی کے درمیان یورپ بھر میں حملے کرنے کے لیے ایک گروہ کو ہدایات فراہم کیں۔

برطانوی وزارتِ خارجہ نے اس پراکسی گروہ کی شناخت ’’اسلامک موومنٹ آف دی کمپینئنز آف دی رائٹ‘‘ کے طور پر کی ہے۔


خلیجی ممالک ایران کی جانب سے حملوں پر شدید ناراض


وزارتِ خارجہ نے ان سرگرمیوں کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ’’متعدد بار خبردار کیے جانے کے باوجود ایران کی انٹیلیجنس سروسز نے اپنی دشمنانہ سرگرمیاں ترک نہیں کیں۔ اس کی بہ جائے ایران نے اپنے نقصان دہ طرزِ عمل میں مزید شدت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

ایران، جو اس وقت امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ہے، ماضی میں پراکسی گروہوں کے استعمال کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ برطانیہ نے پیر کے روز نئے اختیارات کے تحت پاسدارانِ انقلاب اور اس سے منسلک ایک گروہ کو سیکیورٹی خطرہ قرار دیا تھا۔ ان اختیارات کا مقصد غیر ملکی ریاستوں کو نگرانی اور تخریب کاری جیسی سرگرمیوں کے لیے پراکسی گروہوں کے استعمال سے روکنا ہے۔

تہران نے منگل کو اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب ایران کی مسلح افواج کا باقاعدہ حصہ ہے۔ ایران نے برطانیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک ریاستی ادارے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

قدس فورس پاسدارانِ انقلاب کی بیرونِ ملک کارروائیوں کے لیے ذمہ دار شاخ ہے۔ امریکا نے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں