The news is by your side.

Advertisement

اسکولوں میں کرونا وائرس کے بارے میں مذاق اور جان بوجھ کے کھانسنے پر پابندی عائد

لندن: برطانیہ میں کرونا وائرس کی صورتحال کنٹرول ہونے کے ساتھ ساتھ معمولات زندگی بھی بحال ہورہے ہیں جبکہ تعلیمی ادارے بھی دوبارہ کھل رہے ہیں، تاہم حکام نے تمام مقامات پر سخت احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ملک میں نافذ لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی ہے تاہم مختلف مقاصد سے گھر سے باہر نکلنے والوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ فیس ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ اختیار کریں۔

برطانیہ میں گزشتہ روز یعنی 31 اگست سے اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے بھی کھل گئے ہیں، اسکولوں کی انتظامیہ نے اسکول کی حدود میں سخت احتیاطی تدابیر نافذ کی ہیں اور ان کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا بھی عندیہ دیا ہے۔

ایسٹ سسیکس میں واقع ایک اسکول نے بھی ایسا ہی ہدایت نامہ جاری کیا ہے جن کے تحت کچھ چیزوں کو ممنوع قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہدایت نامے کی خلاف ورزی پر طالبعلم کا نام اسکول سے خارج کرنے سمیت سخت کارروائیاں کی جاسکتی ہیں۔

ہدایت نامے میں مندرجہ ذیل امور پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

جان بوجھ کر کھانسنا

منہ کو ڈھانپے بغیر چھینکنا

کرونا وائرس کے بارے میں نامناسب گفتگو

جان بوجھ کر کسی کے قریب ہونا

انتظامیہ کے مطابق مذکورہ بالا امور کے مرتکب طالبعلم کو ایک مخصوص مدت کے لیے معطل کیا جاسکتا ہے۔ انتظامیہ نے خاص طور پر ہدایت کی ہے کہ کرونا وائرس کے بارے میں مذاق کرنے یا ساتھیوں کو تنگ کرنے کے لیے جان بوجھ کر کھانسنے سے پرہیز کیا جائے۔

علاوہ ازیں طلبا کو لنچ بریک میں بھی اپنی کلاسز تک محدود رہنے کا کہا گیا ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں کرونا وائرس کے 3 لاکھ 35 ہزار 873 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ اب تک 41 ہزار 501 افراد کرونا وائرس کے باعث موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں