داعش کے خلاف لڑنے والے برطانوی فوجی کو ترکی میں سزا UK servicemen
The news is by your side.

Advertisement

داعش کے خلاف لڑنے والے برطانوی فوجی کو ترکی میں سزا

انقرہ : برطانوی فوجی کو داعش کے خلاف برسرپیکار کردش فورسز میں شمولیت کے الزام پر ترکی کی عدالت نے 7 برس قید کی سزا سنا دی۔

تفصیلات کے مطابق ترکی کی عدالت نے شام کی دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف لڑنے والی کرد فورسز کا رکن بننے کے الزام پر 25 سالہ برطانوی فوجی رابنسن کو قید کی سزا دی۔

برطانوی فوجی کی والدہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ میرے بیٹے رابنسن کو سنہ 2017 میں کردش فورسز کے مسلح گروپ وائے پی جی میں شمولیت اختیار کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ کردش فورسز کے وائے پی جی گروپ کو ترکی میں کالعدم و دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ترکی کی عدالت نے جوئے رابنسن کو 7 برس قید کی سزا سنائی تاہم وہ ضمانت پر ہیں اور روبنسن نے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانوی فوجی کی والدہ کا کہنا ہے کہ روبنسن کی گرفتاری کی تصدیق برطانیہ کے دفتر خارجہ کی تھی، ’یہ انتہائی افسوسناک صورت حال ہے جو میری سمجھ سے بالاتر ہے‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ برطانوی فوجی نیٹو فورسز کے ہمراہ کچھ وقت افغانستان جنگ میں بھی گزار چکا ہے، رابنسن کو حراست میں لیے جانے کے بعد 4 ماہ تک جیل میں قید رکھا گیا تھا، جنہوں نے نومبر میں ضمانت پر رہائی پائی تھی۔

برطانوی خبر رساں ادارے مطابق ضمانت پر رہائی پانے والی برطانوی فوجی کو ترکی چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں