بدھ, جنوری 21, 2026
اشتہار

روزگار کیلیے برطانیہ جانے والے غیرملکیوں کیلیے اہم خبر

اشتہار

حیرت انگیز

لندن : برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح میں ہوشربا اضافہ سامنے آیا ہے جو 5.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے، یہ گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔

قومی ادارۂ شماریات (او این ایس) کی رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار اکتوبر تک کے تین ماہ کے ہیں جو گزشتہ ماہ پیش کیے گئے جبکہ اس سے گزشتہ سہ ماہی میں یہ شرح 5 فیصد تھی۔

او این ایس کا کہنا ہے کہ بے روزگاری کی یہ شرح جنوری 2021 کے بعد سب سے زیادہ ہے، تاہم اگر کووڈ کی وبا کا دورانیہ نکال دیا جائے تو بھی یہ ابتدائی 2016 کے بعد بلند ترین سطح بنتی ہے۔

اس حوالے سے معاشی ماہرینِ کا کہنا ہے کہ بے روزگاری میں ہونے والے اس اضافے سے یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ بینک آف انگلینڈ بہت جلد شرحِ سود میں کمی کردے گا۔

 unemployment

دفتر برائے قومی شماریات کا کہنا ہے کہ بےروزگاری کی یہ شرح لیبر مارکیٹ پر دباؤ کا عکاس ہے، اکتوبر تک کی سہ ماہی میں تنخواہوں میں اوسط اضافہ 4.6 رہا، نجی شعبہ میں یہ اضافہ 4.2 فیصد سے کم ہوکر 3.9 فیصد رہا تو سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ 6.6 فیصد سے 7.6 فیصد تک ہوا۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق بونس کے علاوہ تنخواہوں میں اضافہ اشیا کی قیمتوں کی بڑھنے کی شرح سے اب بھی زائد ہے، بونس کے بغیر اجرتوں میں اضافہ اکتوبر میں کم ہو کر 4.6 فیصد رہ گیا، جو ستمبر میں 4.7فیصد تھا، یہ شرح ابتدائی 2022 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔

بے روزگاری الاؤنس لینے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آجرین کی جانب سے ملازمین کو فارغ کرنا بھی ان اعداد و شمار کی ایک بڑی وجہ ہے۔ بے روزگاری الاؤنس کے دعوے داروں کی تعداد بڑھ کر 16 لاکھ 96 ہزار ہو گئی، جو اگست میں 16 لاکھ 86 ہزار تھی۔

یاد رہے کہ خبر رساں ادارے روئٹرز کے سروے میں شامل ماہرین نے اکتوبر میں بے روزگاری کی شرح 5.1فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی تھی، جو ستمبر میں 5 فیصد تھی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں