The news is by your side.

یوکرین کا روس کیخلاف بڑی فتح کا دعویٰ

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے سینیئر مشیر نے کہا ہے کہ یوکرینی فوج نے روس کی دفاعی لائن کو چند گھنٹوں میں توڑ دیا ہے۔

یوکرین نے اپنے علاقوں کا کنٹرول واپس لینے کیلیے شروع کی گئی نئی مہم کے تحت جنوبی شہر خیرسون کے اکثر مقامات پر دشمن کی دفاعی لائن کو توڑنے میں کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

یوکرینی فوج کی جانب سے روسی کشتیوں پر شیلنگ کا سلسلہ کچھ وقت سے جاری ہے جو یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں موجود روسی فوجوں کے لیے سامان کی سپلائی کا ذریعہ ہیں۔

پیر کو یوکرین کی فوجی کمانڈ نے کہا تھا کہ جنوب کی جانب مختلف اطراف میں جارحانہ کارروائیوں کا سلسہ شروع ہو گیا ہے جس میں اہم ساحلی علاقہ خیرسون بھی شامل ہے جس پر روس نے حملے کے آٹھویں روز ہی قبضہ کیا کر لیا تھا۔

دوسری جانب روسی عہدیداروں نے کہا ہے کہ یوکرینی مقبوضہ علاقے نوفا کاخوفکا پر یوکرین کی جانب سے راکٹ حملوں کے باعث پانی اور بجلی سے محروم ہو گئے ہیں جب کہ یوکرین کے بندرگاہی شہر میکولائیف پر روس کی تازہ شیلنگ میں دو افراد ہلاک اور چوبیس زخمی ہوئے ہیں جبکہ چند گھروں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔

یوکرین نے گزشتہ ہفتے کے دوران دس سے زائد مقامات پر حملے کیے ہیں۔ یوکرینی عہدیداروں کے مطابق ان تازہ کارروائیوں سے دشمن کمزور ہوا ہے۔

تاہم ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روس نے یوکرین کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو نے بندرگاہی شہر میکولائیف پر شیلنگ کر کے کیف کی جوابی جارحانہ کارروائی کو ناکام بنا دیا ہے۔

روسی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ یوکرینی فوج کی جانب سے روسی کشتیوں پر شیلنگ کا سلسلہ کچھ وقت سے جاری ہے جو یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں موجود روسی فوجوں کے لیے سامان کی سپلائی کا ذریعہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کی جارحانہ کارروائی کی کوشش بری طرح سے ناکام ہوئی ہے اور اس کی میکولائیف اور خیرسون کے علاقوں پر جارحانہ کارروائی کی کوشش میں یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ روس کا یوکرین پر حملہ سنہ 1945 کے بعد سے کسی بھی یورپی ریاست پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ سمجھا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں