The news is by your side.

Advertisement

یوکرین میں بائیو لوجیکل لیبارٹری کا انکشاف، امریکا روس آمنے سامنے

کیف: یوکرین روس جنگ میں نیا موڑ آیا ہے، جہاں روسی حکام نے یوکرین میں بائیو لوجیکل ریسرچ لیبارٹری کا انکشاف کر ڈالا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یوکرین میں حیاتیاتی لیبارٹریوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے اور امریکا نے بھی ان سہولیات کا اعتراف کیا ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں بریفنگ کے دوران سینیٹر نے سوال اٹھایا کہ کیا یوکرین کے پاس کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار ہیں؟ جس پر محکمہ خارجہ کی انڈر سیکریٹری وکٹوریہ نولینڈ نے جواب دیا کہ وہاں حیاتیاتی تحقیق کی سہولت موجود ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہمیں تشویش ہے کہ روسی افواج ان تنصیبات پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، ہم یوکرائنی حکام کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ حیاتیاتی تحقیقی مواد روسی افواج کے ہاتھ میں نہ آئے۔

یہ بھی پڑھیں: روس نے ایک بار پھر دنیا کو حیران کر دیا

روسی وزارت دفاع کے مطابق امریکی مالی اعانت سے چلنے والی حیاتیاتی لیبارٹریوں میں طاعون اور اینتھراکس جیسے مہلک وائرس موجود ہیں۔

روسی حکام نے مزید کہا کہ امریکا واضح کرے، دنیا جاننا چاہتی ہے کہ یوکرین میں بائیولوجیکل ریسرچ لیب کا مقصد کیا ہے؟

ادھر یوکرینی حکام نے سائنسدانوں کو مہلک وائرس کو تلف کرنے کا حکم دیا ہے جب کہ روس نے وائرس سے متعلق دستاویزات جاری کردی ہیں۔

دوسری جانب چین نے یوکرین میں بائیولوجیکل لیب کے سامنے آنے پر امریکا سے وضاحت طلب کی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کے مطابق یوکرین میں بائیو لیبارٹریز میں خطرناک وائرس کی موجودگی کا پتہ چلا، امریکا یوکرین میں حیاتیاتی تجربہ گاہوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا تھا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا کو واضح کرنا چاہیے کہ ان لیبارٹریوں میں کس قسم کا وائرس موجود تھا، دنیا کے 30 ممالک میں 336 حیاتیاتی تجربہ گاہیں امریکی کنٹرول میں ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں