بدھ, مارچ 11, 2026
اشتہار

زیلنسکی ٹرمپ ملاقات سے قبل روسی ڈرونز اور میزائلوں نے یوکرین کو ہلا کر رکھ دیا

اشتہار

حیرت انگیز

کیف (27 دسمبر 2025): روس نے ہفتے کے روز کیف اور یوکرین کے دیگر علاقوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے زبردست حملے کیے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق روس کی جانب سے حملے ایسے وقت میں ہوئے جب صدر ولودیمیر زیلنسکی امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک اہم ملاقات کرنے والے ہیں، جس میں تقریباً 4 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر کام کیا جانا ہے۔

حملوں سے قبل زیلنسکی نے کہا تھا کہ اتوار کے روز فلوریڈا میں ہونے والی ان کی بات چیت کا مرکز یہ ہوگا کہ لڑائی رکنے کے بعد کون سا علاقہ کس فریق کے کنٹرول میں ہوگا۔ یہ لڑائی فروری 2022 میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب صدر ولادیمیر پیوٹن نے روس کے نسبتاً چھوٹے ہمسایہ ملک پر حملہ کیا، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کا سب سے ہلاکت خیز تنازعہ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق کیف میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد یوکرین کے فضائی دفاعی یونٹس متحرک ہوئے، فوج نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ پر بتایا کہ میزائل داغے جا رہے ہیں۔ فضائیہ نے کہا کہ روسی ڈرونز دارالحکومت کے ساتھ ساتھ شمال مشرقی اور جنوبی علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق صبح 8 بجے تک حملے جاری تھے اور دارالحکومت میں فضائی حملے کا الرٹ برقرار تھا۔ کیف کی انتظامیہ کے مطابق کم از کم 8 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

روس نے حملوں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق جمعرات کی رات روس نے یوکرین کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا اور جنوبی علاقے اوڈیسا پر حملے تیز کیے، جہاں یوکرین کی اہم بندرگاہیں واقع ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت جنگ بندی میں علاقائی کنٹرول کا سوال رکاوٹ بنا ہوا ہے، زیلنسکی نے کیف میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکا کی قیادت میں تیار کیا جانے والا امن منصوبے کا 20 نکاتی مسودہ 90 فی صد مکمل ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا ’’نئے سال سے پہلے بہت کچھ طے ہو سکتا ہے۔‘‘

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں