The news is by your side.

یوکرینی صدر کا روس پر ’’توانائی دہشت گردی‘‘کا الزام

کیف : یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر ’’توانائی کی دہشت گردی‘‘ کا سہارا لینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے روسی فوجیوں کو مدد ملتی ہے۔

صدر زیلنسکی کے مطابق گزشتہ ماہ کے دوران یوکرین کے ایک تہائی پاور اسٹیشن مبینہ طور پر تباہ ہو چکے ہیں، اسی وجہ سے یوکرین کی حکومت کو شہریوں سے کم سے کم بجلی استعمال کرنے کی درخواست کرنا پڑی۔

جمعرات کو اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یوکرین کے توانائی کی تنصیبات پر روسی حملوں کے بعد 4.5 ملین لوگ بجلی کے بغیر اندھیرے میں رہ رہے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں روس نے یوکرین میں بجلی کی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب حکام نے بڑے جنوبی شہر کھیرسن سے روسی فوجیوں کے انخلاء کی پیش گوئی کی ہے۔

صدر زیلنسکی نے مزید کہا کہ آج رات تقریباً 45 لاکھ صارفین کو عارضی طور پر توانائی کی فراہمی سے منقطع کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روسی افواج کا توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا اس کی ’’کمزوری‘‘کی علامت ہے کیونکہ روسی فوج اگلے مورچوں پر زیادہ زمین پر قبضہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس کی جانب سے توانائی کی دہشت گردی کا سہارا لینا ہمارے دشمن کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’’وہ یوکرین کو میدان جنگ میں نہیں ہرا سکتے، اس لیے وہ ہمارے لوگوں کو اس طرح توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب روس کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ وہ یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں