The news is by your side.

Advertisement

یوکرینی صدر کا نیٹو رکنیت سے متعلق بڑا اعلان

کیف: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین فوجی تنظیم نیٹو میں شامل نہیں ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی زیر قیادت جوائنٹ ایکسپنڈیشنری فورس (جے ای ایف) کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے یوکرین کے صدر نے کہا کہ یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے، ہم نے برسوں سے سنا ہے کہ دروازے کھلے ہیں، لیکن ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ ہم اس میں شامل نہیں ہو سکتے۔

انھوں نے کہا کہ یہ ایک سچائی ہے اور اسے تسلیم کیا جانا چاہیے، واضح رہے کہ یوکرین پر حملہ کرنے سے قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے مطالبات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ نیٹو کی اس کی رکنیت کو غیر معینہ مدت کے لیے مسترد کر دیا جائے۔

یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے، اگرچہ اس نے با رہا کہا ہے کہ وہ اپنے تحفظ کے لیے اس میں شامل ہونا چاہتا ہے، کیف نے منگل کو کہا کہ وہ سمجھ گیا ہے کہ اس کے پاس نیٹو کی رکنیت کے لیے کوئی کھلا دروازہ نہیں ہے، اور اس لیے اب وہ دوسری قسم کی حفاظتی ضمانتوں کی تلاش میں ہے۔

زیلنسکی نے ایک بار پھر مغربی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ یوکرین کو جنگی طیارے فراہم کریں۔

مغربی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگرچہ نیٹو رکنیت سمیت روس کی جانب سے حملے کے جو جواز پیش کیے گئے ہیں، اور جس قوت سے روس حملہ آور ہوا ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پیوٹن یوکرین میں حکومت کی تبدیلی اور اس چھوٹے پڑوسی پر ایک ایسا مکمل غلبہ حاصل کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے، جسے چیلنج نہ کیا جا سکتا ہو۔

دوسری طرف امریکا اور نیٹو کے دیگر ارکان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ روس کے حملے سے لڑنے کے لیے یوکرین کی مدد کرتے رہیں گے، تاہم نیٹو کی اپنی سلامتی کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔ سفارت کاروں اور فوجی تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ نیٹو کے اتحادیوں نے 24 فروری کو حملے شروع ہونے کے بعد سے 20 ہزار سے زیادہ ٹینک شکن اور دیگر ہتھیار یوکرین کو بھیجے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں