The news is by your side.

Advertisement

مذہبی تعصب، حکمران جماعت کے چودہ اراکین معطل

لندن: برطانیہ میں نسل پرستی اور مذہبی تعصب رکھنے والے چودہ حکمران جماعت کے اراکین کو معطل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق حکمران جماعت ‘کنزویٹو‘ کے 14 اراکین کو مسلمانوں کے خلاف نفرت رکھنے اور اس کا پرچار کرنے پر پارٹی کی قیادت نے معطل کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ معطل کیے جانے والے اراکین نے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے پر شدید تنقید کی اور معطلی کو ماننے سے انکار کردیا۔

معطل کیے گئے اراکین سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز خیالات کا اظہار کرتے تھے، اسی کے پیش نظر پارٹی قیادت نے اراکین کو معطل کیا۔

دوسری جانب حکمران جماعت کے رکن پیٹر لیمب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیر مواد شیئر کرنے پر معافی مانگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میرا ارادہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا نہیں تھا، لیکن اگر کسی کی دل آزاری ہوئی تو اس کے لیے معذرت خواہ ہوں‘

دوسری جانب اس حوالے سے پاکستانی نژاد برطانوی رکن پارلیمنٹ سعیدہ وارثی کا کہنا تھا کہ ‘وزیراعظم تھریسا مے سنتی ہی نہیں ہیں، جب بھی کوئی ایسا مسئلہ ہو وہ اسے تسلیم کرنے میں ناکام رہتی ہیں’۔

برطانیہ: نسلی تعصب، مسلمان ریڈیو میزبان پر حملہ

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ لندن میں ریڈیو پر پروگرام کرنے والے میزبان ماجد نواز پر مذہبی اور نسلی تعصب کی بنیاد پر حملہ کیا گیا تھا جس کے باعث ان کی پیشانی چوٹے آئی تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں