The news is by your side.

Advertisement

کامیڈی کنگ عمر شریف کی زندگی پر ایک نظر

پاکستان کے معاشی حب کراچی کے مشہور علاقے لیاقت آباد میں 19 اپریل 1955 کو محمد عمر نامی بچے نے جنم لیا بعدازاں وہ بچہ کامیڈی کنگ عمر شریف کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہوا۔

عمر شریف نے اپنی زندگی کی چودہ بہاریں دیکھنے کے بعد 14 برس کی عمر میں اسٹیج ڈراموں سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور کامیابی کی سیڑھیاں کچھ اس انداز میں چڑھنا شروع کی کہ پھر پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔

عمر شریف نے تھیٹر، اسٹیج، فلم اور ٹی وی میں اپنی جاندار اور بے مثال اداکاری کے جوہر دکھائے لیکن ان کی بنیادی وجہ شہرت مزاحیہ اسٹیج ڈرامے ہیں۔

کامیڈی کنگ کا اصل نام محمد عمر تھا لیکن عمر شریف لڑکپن سے ہی برصغیر کے بےمثل مزاحیہ اداکار منور ظریف کے دیوانے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ منورظریف میرے روحانی استاد ہیں۔ کریئر کی ابتدا میں عمرشریف نے اپنا نام عمر ظریف بھی رکھا لیکن 70 کی دہائی میں مصری اداکار عمر شریف کی فلم ’لارنس آف عریبیا‘ کی نمائش ہوئی تو جواں سال محمد عمر، عمر شریف بن گئے، بعدازاں عمر شریف کے نام دنیا میں اپنی پہنچان بنائی۔

اسٹیج ڈراموں کے بے تاج بادشاہ نے 1980ء میں پہلی بار آڈیو کیسٹ سے اپنے ڈرامے ریلیز کیے، جو پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی کافی مقبول ہوئے۔

عمر شریف کے مقبول ڈراموں میں 1989 میں ریلیز ہونے والا مشہور مزاحیہ ڈرامہ ’بکرا قسطوں پر 1، 2، 3، 4، 5، بڈھا گھر پر ہے، میری بھی تو عید کرا دے، ماموں مذاق مت کرو اور دیگر شامل ہیں۔

عمر شریف نے 70 سے زائد ڈراموں کے سکرپٹ لکھے جن کے مصنف، ہدایتکار اور اداکار وہ خود تھے اور ان ڈراموں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔

عمر شریف نے اکتوبر 2009 میں اپنے لیٹ نائٹ ٹاک شو ’دی شریف شو‘ کا آغاز کیا اور متعدد اداکار، فنکار، گلوکار اور سیاست دانوں کے انٹرویوز کیے، انہوں نے اداکاری اور میزبانی کے ساتھ ساتھ متعدد پروگراموں میں بطور جج بھی شرکت کی جس میں بھارت کا مقبول ترین پروگرام ’دی گریٹ انڈین لافٹر چیلنج‘ سرفہرست ہے، جہاں نوجوت سنگھ سدھو ان کے ہمراہ جج کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

انسانی خدمت

کامیڈی کنگ اداکاری کی دنیا میں شہرت حاصل کرنے کے باوجود انسانیت کے جذبے سے سرشار تھے، جس کے باعث انہوں نے 2006 میں عمر شریف ویلفیئر ٹرسٹ قائم کی جس کے تحت ماں کے نام سے اسپتال قائم کیا جہاں مریضوں کو علاج کی مفت سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

ماں اسپتال

ایوارڈز

عمر شریف نے سال 1992 میں فلم ’مسٹر۔420‘ میں بہترین اداکاری اور ہدایت کاری کرنے پر نیشنل ایوارڈ حاصل کیا۔

کامیڈی کنگ نے اپنی زندگی میں دس نگار ایوارڈ اپنے نام کیے اور عمر شریف واحد اداکار ہیں جنہوں نے ایک ہی سال میں چار مرتبہ نگار ایوارڈ حاصل کیا، آپ کو حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جاچکا ہے۔

تمغہ امتیاز

انتقال

سن 2017 میں عمر شریف کے انتقال سے متعلق جھوٹی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تھیں، جس کے بعد ان کے صاحبزادے جواد عمر نے خبر کی تردید کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عمر شریف حیات اور تندرست ہیں، بعدازاں ستمبر 2021 میں عمر شریف ایک مرتبہ پھر موت سے متعلق جھوٹی خبروں کا شکار ہوئے۔

بھارت کے مشہور مزاحیہ اداکار جونی لیور اور راجو شریواستو سے ’دی گارڈ آف ایشین کامیڈی‘ کا لقب پانے والے کامیڈی کنگ عمر شریف 2 اکتوبر 2021 میں عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے باعث 66 برس کی عمر میں جرمنی میں دوران علاج انتقال کرگئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں