The news is by your side.

‘میں ہوں ام رباب، میں ہوں اے آر وائی نیوز’

دادو: والد، دادا اور چچا کے قاتلوں کے خلاف کیس لڑنے والی نہتی ام رباب چانڈیو نے بھی اے آر وائی نیوز کی بندش پر صدائے حق بلند کردی۔

تفصیلات کے مطابق تہرے قتل کے مقدمےکی مدعی ام رباب چانڈیو نے دادو میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اے آر وائی نیوز کی بندش پر کہا کہ’ میں ہوں ام رباب،میں ہوں اےآروائی نیوز’۔

ام رباب چانڈیو نے کہا کہ اے آر وائی نیوز مجھ جیسے کئی مظلوموں کی آوازبنتا آیا ہے، مظلوموں کی آوازبننےپرآج اے آر وائی نیوزپرپابندی لگائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزادی صحافت پریقین رکھتی ہوں،اظہار رائےہرشخص کاحق ہے، پابندی لگانےوالےسن لیں میں بھی اےآروائی نیوزہوں۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد کیخلاف کیس کرنے کا اعلان

خیال رہے کہ سترہ جنوری دو ہزار اٹھارہ کو ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کو قتل کردیاگیاتھا, مقدمہ تھانہ میہڑ میں رکن سندھ اسمبلی سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو سمیت سات ملزمان پر مقدمہ درج ہے۔

مقتول مختیار چانڈیو کی بیٹی ام رباب کا الزام ہے کہ ایم پی اے سردار خان چانڈیو کے کہنے پر برہان چانڈیو نے پولیس پروٹوکول کی موجودگی میں مختار چانڈیو، کابل چانڈیو اور کرم اللہ چانڈیو کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔

جس کے بعد ام رباب نے والد کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں