ہفتہ, جون 6, 2026
اشتہار

امّ کلثوم: عرب دنیا کی سب سے مقبول آواز

اشتہار

حیرت انگیز

دنیائے عرب نے امّ کلثوم کو کئی القاب سے پکارا ہے۔ وہ‘بنتِ نیل’، ‘کوکبِ مشرق’، ‘بلبلِ صحرا’ اور ‘صوۃُ العرب’ مشہور ہیں۔ مصر کی اس لیجنڈری گلوکارہ نے اپنے اندازِ گائیکی سے مشرقِ وسطی کے نوجوانوں کو اپنا مداح بنا لیا تھا۔ یہ شہرت عرب دنیا سے نکل کر عالمی سطح پر پھیل گئی اور آج بھی امِّ کلثوم کا نام ایک عظیم گلوکارہ کے طور پر لیا جاتا ہے۔

امِّ کلثوم کا انتقال 1975ء میں آج ہی کے روز ہوا تھا۔ وہ مصر کے ایک کسان خاندان کی فرد تھیں۔ انھوں نے 31 دسمبر 1898ء کو آنکھ کھولی۔ ان کا اصل نام فاطمہ ابراہیم تھا۔ والد ابراہیم مؤذن تھے جو اردگرد کے علاقوں میں مذہبی کلام گایا کرتے تھے۔ وہ اپنی بیٹی کو لڑکوں کے کپڑے پہنا کر اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ اسی نے اُم کلثوم کو بھی گائیکی کی جانب مائل کیا اور ابتداً وہ فنِ‌ قرأت سے وابستہ ہوئیں۔ سولہ برس کی عمر تھی کہ ام کلثوم کو ایک کم معروف گلوکار محمد ابوالعلا سے کلاسیکی موسیقی کی تعلیم پانے کا موقع ملا اور چند سال بعد وہ مشہور بربط نواز اور موسیقار ذکریا احمد سے متعارف ہوئیں جنھوں‌ نے ان کو ریاضت اور فنی باریکیوں کو سمجھاتے ہوئے اس فن میں آگے بڑھایا۔ 1923 میں وہ قاہرہ منتقل ہو گئیں جہاں امین المہدی نے انھیں عود بجانا سکھایا اور وہ ثقافتی تقریبات میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے لگیں۔ سنہ 1934 میں قاہرہ میں ریڈیو اسٹیشن کا قیام عمل میں آیا جو مصر میں ایک ثقافتی انقلاب کی شروعات تھی۔ ریڈیو کے میڈیم نے اُم کلثوم کو پورے عرب میں مشہور کر دیا۔ اسی زمانہ میں مشہور شاعر احمد رامی نے ان کے لیے 137 نغمے لکھے۔ 1956 میں جب نہرِ سوئز کے معاملے پر برطانیہ، فرانس، اسرائیل اور مصر کے درمیان جنگ کی نوبت آئی تو اُم کلثوم کے گائے ہوئے قومی اور جنگی نغمات نے مصری قوم میں ایک ولولہ بیدار کر دیا اور یہی ان کی شہرت کا نقطۂ عروج بھی تھا۔ 1920ء کی دہائی میں مصر میں نوجوان امّ کلثوم کی آواز لوگوں تک پہنچنے لگی تھی۔ مگر ان کی اصل شہرت ریڈیو قاہرہ کی بدولت ممکن ہوئی جس کے بعد ان کی آواز عرب دنیا میں گونجنے لگی۔ اور پھر نہر سوئز کے معاملے پر ان کی گائیکی کی بدولت انھیں عالمی سطح پر بھی پہچان ملی۔

امّ کلثوم نے بدوئوں اور دیہاتیوں کے لوک گیت اور کہانیاں سنی تھیں، ان کی زندگی کو قریب سے دیکھا تھا اور ثقافت سے آشنا تھیں۔ انھوں نے اپنے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں بطور فن کارہ کلاسیکی عرب موسیقی کا انتخاب کیا اور قدیم راگوں میں لوک گائیکی کو اپنی آواز دی اور اسے اپنے منفرد انداز میں‌ یوں پیش کیا کہ وہ امر ہوگئے۔ امِّ کلثوم کے یہ گیت صحرا صحرا ہوا کے دوش پر عرب خطّے میں پھیل گئے اور انھیں بے مثال پذیرائی ملی۔ گلوکارہ کے مداحوں میں ہر طبقے کے افراد شامل ہیں۔ مصر میں انھیں سب سے بڑے اعزاز ‘الکمال’ سے نوازا گیا اور فن و ثقافت کی دنیا کے کئی دوسرے اعزازات ام کلثوم کے حصّے میں آئے۔

مصری گلوکارہ نے علامہ اقبال کی نظموں شکوہ، جوابِ شکوہ کا عربی ترجمہ بھی گایا تھا جس پر حکومتِ پاکستان نے انھیں‌ستارۂ امتیاز سے نوازا۔ ام کلثوم دماغ کی شریان پھٹ جانے کے سبب زندگی کی بازی ہار گئی تھیں۔ ان کے جنازے میں‌ لاکھوں افراد شریک ہوئے تھے۔

نصف صدی سے زائد عرصہ بیت جانے کے بعد بھی مصری گلوکارہ ام کلثوم کی آواز مصر اور عرب دنیا میں ہوٹلوں، گھروں اور نجی محافل میں ذوق و شوق کی تسکین کرتی ہے اور ہر طرف ان کی گونج سنائی دیتی ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں