The news is by your side.

Advertisement

عالمی توانائی کونسل کا مستقبل کے تین سالہ پروگرام کے لئے پاکستانی انجینئرکا انتخاب

لاہور:عالمی توانائی کونسل نے صوبہ پنجاب کے شہرلاہورسے 32 سالہ پاکستانی انجینئر محمد انوارالحق کومستقبل میں توانائی کے تین سالہ پروگرام کے لئے منتخب کرلیا.

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ باڈی نے توانائی سے متعلق ایک پروگرام میں 90 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کوتین سال کے لئے منتخب کیا جائے گا، اس پروگرام کےلئے عالمی توانائی کونسل نے پاکستان کے شہرلاہورسےانجینئرمحمد انوار الحق کا انتخاب کیا ہے۔

انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی سے گریجویٹ انوارالحق ولڈ بینک سمیت بین الاقوامی اداروں سے وابسطہ رہے ہیں،نوجوان انجینئرکو توانائی، ٹیکنالوجی،پروجیکٹ فنانس میں مہارت حاصل ہے، محمد انوارالحق نے ٓاٹھ سال سے زائد بین الاقوامی اداروں کےساتھ کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہوگی کہ پاکستان کوعالمی فورم سے منسلک کرسکوں، تاکہ ملک میں توانائی کےشعبے میں عالمی طریقوں کو استعمال کیا جاسکے۔

محمد انوارالحق کے مطابق پاکستان توانائی کےشعبےمیں جدید ٹیکنالوجی کے لحاظ سے دنیا سے منقطع دکھائی دیتا ہے،اس کے علاوہ توانائی کی پالیسیوں میں تبدیلیاں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کوپریشان کرتی ہیں۔

پاکستان کے بین الاقوامی فورم سے منسلک ہونے سے ملک میں توانائی کی پالیسیوں میں بہتری ٓائے گی اور ٓائندہ ٓانے والے سالوں میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگا، اور ملک میں توانائی کو پورا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

انوارالحق کا کہنا تھا کہ انہوں نے قائداعظم سولر پارک کے چیف حکمت عملی افسر کے طور پر پنجاب حکومت کے ساتھ ایک سالہ ملازمت کے دوران حکومت کو کاروبار میں ضرورت سے زیادہ ملوث دیکھا،حکومت بیوروکریسی کے ذریعے منصوبوں کو مکمل کرنے کی کوشش کررہی ہے.

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لئے پاکستان کی توانائی کی مارکیٹ ایک بہترین مارکیٹ ہے لیکن حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سےبین الاقوامی سرمایہ کار ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

محمد انوارالحق نے حکومت کی جانب سے توانائی کے بحران کا 2018 تک ختم کرنے کے وعدے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں