The news is by your side.

Advertisement

اقوام متحدہ نے سینئر طالبان رہنماؤں کو سفر کی اجازت دے دی

سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ یہ اجازت صرف امن مذاکرات میں شرکت سے مخصوص ہے

نیویارک : اقوام متحدہ نے دوحہ میں قائم طالبان کے سیاسی سفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر سمیت گیارہ رہنماؤں سفر کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے تحریک طالبان سے امن مذاکرات کے بعد طالبان رہنماؤں عائد سفری پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سلامتی کونسل نے واضح کیا ہے کہ دوحہ میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر اور ڈپٹی لیڈر شیر محمد عباس اسٹانکزئی سمیت دوسرے اراکین کو بین الاقوامی سفر کی اجازت دیدی گئی ہے۔

طالبان کے منجمد اثاثوں کی محدود بحالی بھی کردی گئی ہے، ادھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سلامتی کونسل کے اقدامات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے رہنماﺅں کو کو اقوام متحدہ کی جانب سے دئیے گئے اس استثنیٰ کا علم ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سلامتی کونسل نے جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ اجازت صرف امن اور مصالحتی مذاکرات میں شرکت کے لیے مخصوص ہے، اس اجازت کا اطلاق رواں برس یکم اپریل سے اکتیس دسمبر تک ہوگا۔

اس بیان میں طالبان کے منجمد اثاثوں کی محدود بحالی بھی کی گئی ہے، اس سہولت کے بعد قطر میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان نمائندے بھرپور طریقے سے شرکت کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ افغان میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ افغان میڈیا کے مطابق مذاکرات مثبت سمت کی جانب جا رہے ہیں تاہم کچھ معاملات پر ابھی بھی رکاوٹ موجود ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مذاکرات کار کوشش کر رہے ہیں کہ درپیش رکاوٹوں پر قابو پایا جائے، طالبان نمائندے ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ان کا صرف اس بات پر اصرار ہے کہ تمام قابض افواج افغانستان سے نکل جائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں