The news is by your side.

Advertisement

فلسطین میں یہودی آباد کاری، اقوام متحدہ کی شدید مذمت

نیویارک: مشرق وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب نیکولائے میلا ڈینوف نے فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع کے عمل کی شدید مذمت کی۔

تفصیلات کے مطابق یو این مندوب نیکولائے میلا ڈینوف نے فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع کے عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودیوں کے لیے مزید گھروں کی تعمیر بین الاقوامی قوانین اور عالمی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب میں مشرق وسطیٰ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی زمین پر یہودیوں کے لیے گھروں کی تعمیر کے ذریعے عالمی قوانین کی کھلے عام پامالی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غرب اردن میں یہودیوں کے لیے 2300 گھروں کی تعمیر کے اعلان کی شدید مذمت کی گئی اور یہودی آباد کاری کو تنازع فلسطین کے منصفانہ حل کی مساعی کے خلاف قرار دیا۔

اسرائیلی قبضہ، فلسطینی اکثریتی علاقے میں یہودیوں کے لیے 6 ہزار گھروں کی تعمیرات

قبل ازیں ترکی نے فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری کے اسرائیلی منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں کررہا ہے۔

ترک وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم اسرائیل کے ان تمام اقدامات اور تصرفات کو مسترد کرتے ہیں جو تنازع کے دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ اور برادر فلسطینی قوم کے حقوق کی نفی کا موجب بن رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل فلسطین پر مکمل طور پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے یہودی آباد کاری کے منصوبے پر گامزن ہے، فلسطینی اکثریتی علاقے میں یہودیوں کے لیے 6 ہزار نئے گھروں کی تعمیرات کی منظوری دے دی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں