بدھ, اگست 19, 2026
اشتہار

’’بہت ہوچکا اب یہ بند ہونا چاہیے‘‘، اقوام متحدہ کی اسرائیل کو تنبیہہ

اشتہار

حیرت انگیز

اقوام متحدہ کے تمام بڑے اداروں کے سربراہان نے غزہ میں معصوم شہریوں خواتین اور بچوں کی کی ہلاکتوں پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت ہوچکا اب یہ بند ہونا چاہیے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کی غزہ پر ایک ماہ سے جاری جارحیت اور مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی پر اقوام متحدہ کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا اور 18 اداروں کے سربراہان نے یک زبان ہوتے ہوئے اسرائیل کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت ہوچکا اب یہ بند ہونا چاہیے، انسانی بنیادوں پر حماس اور اسرائیل کے درمیان فوری جنگ بندی کی جائے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں یونیسف، ورلڈ فوڈ پروگرام اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزین سمیت 18 اداروں کے سربراہان کے جاری بیان میں جنگ کے آغاز کے بعد دونوں طرف ہونے والے خوفناک نقصانات کو بیان کیا گیا ہے۔

حماس کے زیرانتظام وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ پر حملوں میں اب تک 9 ہزار 770 فلسطینی شہید کیے ہیں جو زیادہ تر عام شہری ہیں جب کہ اقوام متحدہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 23 ہزار زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

غزہ میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی پال ٹیل نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد تیسری مرتبہ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس معطل کر دی گئی ہے جب کہ بلیک آؤٹ کے کچھ دیر بعد اسرائیل کی فوج نے غزہ شہر اور دیگر قریبی علاقوں میں شدید بمباری شروع کی۔

اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق دھماکے اتنے زوردار تھے کہ ان کی آوازیں رفح سرحد میں سنی گئیں۔

خدا کے لیے غزہ میں جنگ بند کی جائے، پوپ فرانسس کی اپیل

واضح رہے کہ عیسائیوں کے روحانی پیشوا نے بھی اسرائیلی جارحیت پر مظلوم فلسطینیوں کے حق میں صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کی اپیل کر دی ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں