The news is by your side.

Advertisement

اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو مقبوضہ کشمیر جانا چاہیے، راجہ فاروق حیدر

اسلام آباد: وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ کشمیری بھارتی آئین کو تسلیم نہیں کرتے، کبھی بھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس صورتحال میں اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو مقبوضہ کشمیر جانا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 ختم کیےجانے پر تبصرہ کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر بھارتی حکومت خودتذبذب کا شکار ہے۔بھارت کشمیریوں کے حقوق سلب کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام اکائیاں مسئلہ کشمیر پر متفق ہیں،حکومت نےکل اس معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا ہے۔بھارت کےخلاف عالمی سطح پرسفارتکاری کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر کے مطابق بھارت نے کشمیر کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے ، کلسٹر بم استعمال کرکےمقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔مودی کے پاس وقت کم ہے وہ ایک دو دن میں کچھ نہ کچھ کرسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم بھارتی آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت آٹیکل 35 کی وجہ سے کشمیر کو اٹوٹ انگ کہتا تھا۔ اب بھارت کشمیریوں رہنماؤں پر ہی طرح طرح کے الزامات لگارہا ہے،حریت رہنما یاسین ملک کی صحت بہت خراب ہے، بھارت یاسین ملک کوسلو پوائزنگ کر رہا ہے اورنظر بند حریت قائدین پر ذہنی و جسمانی ٹارچر کر رہا ہے۔

آرٹیکل 370 کیا تھا؟ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو کیا نقصان ہوگا؟

ان کا کہنا تھا کہ کشمیری کبھی بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کو برداشت نہیں کریں گے، جموں کشمیر بھارت کا حصہ ہی نہیں ہے۔ہمیں بھارت سے کچھ پرانا حساب بھی چکانا ہےکشمیری اپنے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

راجہ فاروق کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو پاک فوج پر پورا بھروسا ہے، پاک فوج بھارت کی ہرقسم کی مہم جوئی کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔بھارت عالمی سطح پر پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کرتا رہا ہے، اس صورتحال میں اقوام متحدہ کی فیکٹ فائیڈنگ کمیٹی کو مقبوضہ کشمیر میں آنا چاہیئے۔

کشمیری پاک فوج کے شانہ بشانہ ملکی سرحدوں کا دفاع کریں گے ،بھارت نے جارحیت کی تو آزادکشمیر کا بچہ بچہ دھرتی کا دفاع کرے گا۔ جنگ کی صورت میں کشمیر بھارتی فوج کا قبرستان ثابت ہو گا۔

یاد رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ میں آج وہاں کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر کے لیے آئین میں خصوصی طور پر موجود آرٹیکل 370 ختم کرنے کے لیے بل پیش کیا جس پر صدر نے پر دستخط کردیے ، اس آرٹیکل کے ختم ہونے سے کشمیر کی ڈیمو گرافی کو شدید نقصان پہنچے گا۔

آرٹیکل 370 ختم ہونے سے کشمیر کی بھارتی آئین میں جو ایک خصوصی حیثیت تھی ، وہ ختم ہوگئی ہے اور اب غیر کشمیری افراد علاقے میں جائیدادیں خرید سکیں گے اور سرکاری نوکریاں بھی حاصل کرسکیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں