The news is by your side.

Advertisement

جگر اور گردوں کی بیماریوں کا خطرہ، عام استعمال کی اہم چیز پر دنیا بھر میں پابندی لگائے جانے پر غور

نیروبی: جگر اور گردوں کی بیماریوں کے خطرے اور ماحولیات کو نقصان کے پیش نظر اقوام متحدہ نے پوری دنیا میں پلاسٹک بیگز پر پابندی لگانے پر غور شروع کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے اجلاس میں پیر کو 2030 تک پلاسٹک کے استعمال کے مکمل خاتمے پر اتفاق کیا گیا، بی بی سی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے پلاسٹک بیگز میں موجود خطرناک کیمیکلز کے ماحولیاتی آلودگی پر اثرات کو کم کرنے کے لیے، اس کے استعمال پر پابندی لگانے پر غور شروع کر دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹک بیگز میں موجود خطرناک کیمیکل سے جگر اور گردوں کی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔

ماحولیات پر نیروبی میں ہونے والے پانچ روزہ اجلاس میں 2030 تک پلاسٹ کے استعمال کے مکمل خاتمے سے متعلق ایک قرارداد پیش کی گئی تھی، جس پر 170 ممالک نے اتفاق کیا۔ اس اجلاس میں 4 ہزار 700 مندوبین اور ماہرین ماحولیات سمیت سائنس دانوں، محقیقین اور کاروباری افراد نے بھی شرکت کی۔

پلاسٹک بیگز پر پابندی کے حوالے سے ماحولیات کے عالمی ماہر ڈیوڈ ازولے کا کہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ ممالک اس نظریے کو پورا کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کریں تا کہ ماحول کو صاف رکھا جا سکے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہر سال تقریبا 8 ملین ٹن پلاسٹک سمندر میں داخل ہوتا ہے، دوسری طرف دنیا میں ماحولیات میں جو تبدیلیاں آ رہی ہیں اس کے لیے ہمیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی نیروبی اسمبلی دنیا کی سر فہرست ماحولیاتی اسمبلی ہے، اور اس اجلاس کو عالمی یو این موسمیات ایکشن سمٹ کے سلسلے میں ایک اہم سنگ میل بھی سمجھا جا رہا ہے، جو کہ ستمبر میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں