نیویارک (29 ستمبر 2025): اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر ایک دہائی بعد معاشی اور عسکری پابندیاں بحال ہو گئیں۔
تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ نے ایک دہائی بعد ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں معاشی اور ہتھیاروں کی پابندیاں عائد کر دیں، سلامتی کونسل میں پابندیوں میں نرمی میں توسیع کی قرارداد مسترد کی گئی۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے تہران کو کشیدگی نہ بڑھانے اور مذاکرات سے معاملات حل کرنے کا مشورہ دے دیا۔ ایرانی پارلیمنٹ نے بین الاقوامی پابندیوں کو مسترد کر دیا، ایران کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں غیر قانونی ہیں، ہم جوابی اقدام کا حق رکھتے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے پابندیوں کی بحالی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئتریس کو اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔
ایرانی صدر نے امریکا کے مطالبات کو ناقابل قبول قرار دے دیا
روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے یہ اقدام یورپی طاقتوں کی طرف سے شروع کیے گئے ایک عمل کے بعد ہوا ہے، جس میں ایران پر 2015 کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا تھا، اس معاہدے کا مقصد تہران کو جوہری بم بنانے سے روکنا تھا، اس کے جواب میں تہران نے سخت ردعمل کی وارننگ دی ہے، اور جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ دہائی پر محیط جوہری معاہدہ، جس پر ایران، برطانیہ، جرمنی، فرانس، امریکا، روس اور چین نے اتفاق کیا تھا، اب ختم ہو گیا ہے اور اس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر اس وقت جب چند ماہ قبل اسرائیل اور امریکا نے ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے 2006 سے 2010 کے درمیان عائد کی گئی پابندیاں ہفتہ کو شام 8 بجے بحال کی گئیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


