The news is by your side.

Advertisement

سلامتی کونسل نے روس کی شام سے متعلق قرارداد مسترد کردی

نیویارک: یو این سیکورٹی کونسل نے روس کی شام سے متعلق قرارداد مسترد کردی ہے، یہ ہنگامی اجلاس شام پر امریکا اور  اس کے اتحادیوں کے حملے کے بعد روس کے مطالبے پر بلایا گیا تھا۔

روس کا مؤقف تھا کہ شام میں امریکا اور اتحادیوں کے حملے کھلی جارحیت اور عالمی قوانین اور یو این چارٹر کی خلاف ورزی ہے اس لیے اقوام متحدہ حالیہ حملے کی مذمت کرے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں صرف تین ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جن میں روس، چین اور بولیویا شامل ہیں جب کہ آٹھ رکن ممالک نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ چار ممالک نے ووٹنگ سے اجتناب کیا۔

روسی سفیر واسلی نبنزیا کا کہنا تھا کہ امریکی جارحیت نے سلامتی کونسل کے سفارتی حل کو کمزور کردیا ہے، روس کو شام میں امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر شک ہے۔

دوسری طرف اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا ہے کہ شام کے مسئلے پر مذاکرات کا وقت ختم ہوچکا ہے‘ امریکی صدر جب ریڈ لائن کھینچ دیتے ہیں تو عمل ضروری ہوجاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے شام کی کیمیائی ہتھیار بنانے کی صلاحیت محدود کردی ہے، اگر شام کی طرف سے دوبارہ زہریلی گیس استعمال ہوئی تو امریکا ضرور حملہ کرے گا۔ خیال رہے کہ برطانوی سفیر نے دوما میں کیمیائی ہتھیار کلورین کے استعمال کی تصدیق کردی ہے۔

نیٹو سربراہ جنز اسٹولٹن برگ نے اپنے ایک بیان میں شام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملے کی حمایت کردی ہے جب کہ اطالوی سفیر نے کہا ہے اپنی سرزمین سے شام پر میزائل داغنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام پرحملہ کردیا

ادھر فرانس کا کہنا ہے کہ ہم نے شام میں کامیابی کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنایا جب کہ روس نے 2013 میں شامی جوہری صلاحیت کے خاتمے کے معاہدے میں ہمیں دھوکا دیا ہے۔

واضح رہے کہ شام کی جانب سے دوما پرمبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں امریکہ نے برطانیہ اور فرانس کے اشتراک کے ساتھ شام کی کیمیائی تنصیبات پر میزائل حملے کیے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں