جنیوا : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن کیلیے خطرہ قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ رپورٹ نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے متعلق افغان حکام کے مؤقف کی نفی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مختلف شدت پسند تنظیمیں نہ صرف وہاں موجود ہیں بلکہ ان کی سرگرمیاں خطے کے امن کے لیے سنجیدہ خطرہ بن چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان سے پاکستان پر دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ کسی بھی رکن ملک نے یہ مؤقف تسلیم نہیں کیا کہ وہاں عسکریت پسند گروہ موجود نہیں۔
سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ آزادیِ عمل اور سہولتیں میسر آئی ہیں۔
دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ القاعدہ کو افغانستان میں سرپرستی حاصل رہی اور بالخصوص ٹی ٹی پی کو تربیت فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
مزید برآں القاعدہ برصغیر کی قیادت کے کابل میں موجود ہونے کی خبریں ہیں جس سے بیرونی کارروائیوں کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سلامتی کونسل نے اسلام آباد کی ایک عدالت پر ہونے والے حملے کو خطرناک رجحان قرار دیا، جس میں 12افراد شہید ہوئے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ٹی ٹی پی کے نائب امیر مزاحم کی ہلاکت شدت پسندوں کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق داعش خراسان شمالی افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب فعال ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی اور نیٹو افواج کے ہتھیاروں کے ذخائر کے باعث ٹی ٹی پی کے حملوں کی شدت میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق شدت پسندوں کی جانب سے جدید اسلحہ، نائٹ وژن آلات اور ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
سلامتی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان گروہوں کی سرگرمیوں کو نہ روکا گیا تو پورا خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
پاکستانی سفارتکار نے اقوام متحدہ میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیا
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


