The news is by your side.

سینیٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور

اسلام آباد : سینیٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ، قرارداد میں کہا گیاکئی بار امریکا سے رہاکرنے کے لیے کہا گیالیکن ایک نہ سنی گئی، حکومت کوچاہیےعافیہ کی رہائی کے لیےسنجیدہ اقدامات کرے۔

تفصیلات مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سجرانی کی زیرصدارت اجلاس ہوا، جس میں معمول کی کارروائی معطل کرکے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق قراردادپیش کی گئی، قرارداد جے یو آئی (ف) کے سینیٹر طلحہٰ محمود نے پیش کی۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کوطویل عرصہ سےجیل میں رکھنےکی مذمت کرتےہیں ، کئی بارامریکاسےرہاکرنےکےلیےکہاگیالیکن ایک نہ سنی گئی۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔

چیئرمین سینیٹ نے عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق منظور قرار داد دفتر خارجہ کو بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قرارداد کی روشنی میں عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کے لیے اقدامات کرے۔

یاد رہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے ملاقات کی تھی، جس میں شاہ محمود قریشی نے ڈاکٹر فوزیہ کو عافیہ صدیقی کیس سے متعلق کاوشوں سے آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں : وزیر خارجہ سے عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی ملاقات

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی سے متعلق ہیوسٹن میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل کو ہدایات کی ہے کہ عافیہ صدیقی کے انسانی و قانونی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور باقاعدگی کے ساتھ کونسلر وزٹس کا اہتمام کیا جائے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قید سے باہر نکلنا چاہتی ہوں، قید کی سزا غیر قانونی ہے، مجھے اغوا کر کے امریکا لایا گیا۔

عافیہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ماضی میں میری بہت حمایت کی، وہ ہمیشہ سے میرے ہیرو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں : قید سے باہرنکلنا چاہتی ہوں، وزیراعظم عمران خان مدد کریں، عافیہ صدیقی کا خط

بعد ازاں پاکستان نے دورے پر آئی ہوئی امریکی نائب وزیر خاجہ ایلس ویلز کے سامنے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ اٹھایا تھا۔ حکومت پاکستان نے مطالبہ کیا تھا کہ عافیہ صدیقی کے معاملے میں انسانی حقوق کو مدنظر رکھا جائے۔

واضح رہے امریکا کے دعوے کے مطاقب عافیہ صدیقی کو افغان جنگ کے دوران افغانستان سے گرفتار کیا گیا تھا، عافیہ صدیقی پر امریکی فوجی کے قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا تاہم عافیہ صدیقی نے ہمیشہ اس الزام کی تردید کی ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو سنہ 2010 میں امریکی عدالت نے افغانستان میں امریکی فوجیوں پرحملہ کرنے کے الزام میں 86 سال قید کی سزاسنائی تھی، وہ ٹیکساس کی جیل میں قید ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں