The news is by your side.

Advertisement

سندھ میں اسکول کھولنے کے معاملے پر بے یقینی کی صورتحال برقرار

کراچی: سندھ میں اسکول کھولنے کے معاملے پر بے یقینی کی صورتحال برقرار ہے اور والدین، طلبا پریشانی میں مبتلا ہیں۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق وزیر تعلیم سندھ سعید غنی 28 ستمبر سے تمام اسکول کھولنے کا اعلان کرچکے ہیں، وزیر صحت سندھ اسکول کھولنے کی مخالف ہیں، اس تمام صورت حال میں والدین، طالبعلم بے یقینی کا شکار ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ کے بیشتر نجی اسکول ایس او پیز پر عمل نہیں کرسکتے، ہزاروں اسکول سندھ بھر میں 80 سے 200 گز پر قائم ہیں۔

ماہرین کے مطابق محکمہ تعلیم سندھ ہر اسکول میں معائنہ ٹیم نہیں بھج سکتی جبکہ بیشتر سرکاری اسکولوں کی صورت حال ابتر ہے۔

مزید پڑھیں: وزیر صحت سندھ نے پرائمری اسکولوں کو کھولنے کی مخالفت کردی

واضح رہے کہ جامعہ کراچی آئی بی اے میں طالب علموں میں کورونا کے مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، نجی اکیڈمی کے انتظامی افسر کورونا کے بعد گھر پر آئسولیشن میں ہیں۔

یاد رہے 22 ستمبر کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے دوسرے مرحلے میں اسکولز کھولنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا تھا کہ چھٹی سے آٹھویں جماعت تک کی کلاسزکا آغاز 23 ستمبر سے ہوگا۔

خیال رہے حکومت سندھ نے 21 ستمبر سے چھٹی سے آٹھویں کی کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا تھا ، بعد ازاں سندھ حکومت نے 28ستمبر سے دوسرے مرحلے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا ہے، وزیرتعلیم سعید غنی کا کہنا تھا کہ سندھ کے اسکولز 28 ستمبر کو کلاس 6 سے 8 کھولنے کے پابند ہوں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں