کراچی : ماموں کی بھانجی سے زیادتی کیس میں عدالت نے وکیل کو تنبیہ کی یہ قتل کا مقدمہ نہیں کہ ورثاء معاف کر دیں تو کیس ختم ہو جائے۔”
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں بھانجی سے زیادتی کے ملزم نصیب گل کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔
ملزم کے وکیل کی بچی کی والدہ کو بلانے پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا آپ زیادتی کا شکار بچی کی والدہ کو بلا کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
جس پر وکیل نے کہا کہ بچی کی والدہ عدالت سے کچھ کہنا چاہتی ہے اس لیے عدالت آئی ہیں تو جسٹس اقبال کلہوڑو کا کہنا تھا کہ "آپ والدہ کو پڑھا سکھا کر یہاں لائے ہیں، والدہ خود نہیں آئیں۔ یہ قتل کا مقدمہ نہیں کہ ورثاء معاف کر دیں تو کیس ختم ہو جائے۔”
عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اپیل کے دوران ایسے ہتھکنڈے استعمال نہ کریں، خاتون کو تو قانون کاعلم نہیں لیکن آپ انہیں ایسے استعمال نہ کریں۔
جج نے کہا، "ماموں کا رشتہ بہت پیارا ہوتا ہے، اس اعتماد کو توڑنے والے کو سزا ضرور ملنی چاہیے۔”
یاد رہے نصیب گل کے خلاف 2021 میں نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ طلاق کے بعد بچی کی والدہ پولیو ورکر کے طور پر کام کرنے کے لیے گھر سے نکلتی تھیں، جس دوران ملزم نے بچی سے زیادتی کی اور جان سے مارنے کی دھمکی دے کر اسے خاموش کرایا۔
والدہ کے دوسرے نکاح کے بعد بھی ملزم نے مجرمانہ سرگرمی جاری رکھنے کی کوشش کی، جس پر بچی کی مزاحمت کے نتیجے میں مقدمہ درج اور ملزم گرفتار ہوا۔
ماتحت عدالت نے نصیب گل کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
اصغر عمر اے آر وائی نیوز سے بطور کورٹ رپورٹر وابستہ ہیں


