نیویارک(6 مارچ 2026): مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ فوجی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے تنازعات نے بچوں کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔
یونیسف کی رپورٹ کے مطابق حالیہ فوجی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک خطے میں 190 سے زائد بچوں کی شہادتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں میں سب سے بڑی تعداد ایران سے ہے جہاں 181 بچے ہلاک ہوئے۔
اس کے علاوہ لبنان میں 7، اسرائیل میں 3 اور کویت میں ایک بچے کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، یونیسیف کا کہنا ہے کہ ایران کے دیگر اسکولوں پر حملوں میں مزید 12 بچوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران میں کم از کم 20 اسکول اور 10 اسپتال حملوں میں متاثر ہوئے ہیں، مناب میں شجرہ طیبہ گرلز پرائمری اسکول پر حملے میں 168 طالبات جاں بحق ہوئیں، حملے کے وقت اسکول میں کلاسز جاری تھیں، جاں بحق ہونے والی طالبات کی عمر 7 سے 12 سال کے درمیان تھیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم یونیسف اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے جنگیں شروع نہیں کرتے، لیکن انہیں اس کی ناقابلِ قبول اور بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔
بین الاقوامی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ خطے میں معصوم بچوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور انہیں جنگی اثرات سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
یونیسیف نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکولوں اور اسپتالوں کو نقصان پہنچنے سے بچوں کی تعلیم اور صحت کی سہولتیں متاثر ہو رہی ہیں، تمام فریقین بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں اور خصوصاً بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں، یونیسف متاثرہ بچوں اور خاندانوں کی مدد کے لیے انسانی امدادی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


