The news is by your side.

Advertisement

روازنہ سات ہزار نومولود بچے موت کی نیند سو جاتے ہیں، یونیسیف

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے اطفال یونیسیف کے مطابق دنیا بھر میں روزانہ کی بنیاد پر سات ہزار بچے صحت کی ناکافی سہولیات میسر نہ ہونے کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں جن میں اکثریت محض ایک سال کی عمر کے بچوں کی ہوتی ہے، بد قسمتی سے پاکستان دنیا بھر میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں سر فہرست ہے۔

یونیسف کے مطابق ہم اپنی زمین سب سے کم عمر شہریوں کی جانوں کو بچانے میں ناکام رہے ہیں اور جب تک آپ یہ سطر پڑھ چکے ہوں اس وقت تک پانچ سے کم عمر ایک اور بچہ ماں کی گود سے موت کی آغوش میں جا چکا ہوگا جب کہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ موت کو گلے لگانے والے ہر دس میں سے ایک بچہ محض 28 دن ہی جی پاتا ہے۔

یونیسیف کے مطابق نوملود بچوں میں اس شرح اموات کی وجہ نہایت سادہ ہے اور صرف تین احتیاطی تدابیر اور قابل علاج مرض پر قابو پا کر آسمان سے اترے ان ستاروں کو اپنے گھروں کی مستقل کہکشاں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے وہ تین چیزیں ہیں 1- قبل از وقت زچگی 2- پیپ زدہ انفیکشن 3- گردن توڑ بخار اور نمونیا سے بچاؤ۔


یہ خبر بھی پڑھیں :  نومولود بچوں کی شرح اموات پاکستان میں سب سے زیادہ


یونیسیف نے ان معلومات کے ساتھ ساتھ زچہ و بچہ کو محفوظ بنانے اور ان ننھے فرشتوں کی مسکراہٹ سے دنیا کو جگمگانے کے لیے عملی کام کرنے کی دعوت دی ہے جس کے ہم میں سے ہر ایک فرد ایک پیٹیشن کے ذریعے اس مثبت کام میں ہاتھ بٹا سکتا ہے اور پاکستان میں نومولو بچوں کی شرح اموات کو کم ترین سطح پر لانے کے لیے کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔


زچہ و بچہ کو محفوظ بنانے کے لیے یہاں دستخط کیجیے ، ’’ یونیسف پٹیشن ‘‘


پاکستان میں صورت حال اتنی گھمبیر ہے کہ ہر 22 نومولود بچوں میں میں ایک بچہ اپنی زندگی کا پہلا مہینہ مکمل کرنے سے قبل ہی جہان فانی سے کوچ کرجاتا ہے، پاکستان میں نومولود بچوں کی شرحِ اموات 46 فیصد تک ہے جب کہ ہر 10 ہزار افراد پر صرف 14 ڈاکٹرز کی سہولت میسر ہے اس کے مقابلے میں جاپان میں 11 سو بچوں میں سے صرف 1 کے انتقال کرجانے کا خطرہ ہوتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں