The news is by your side.

Advertisement

برطانوی پولیس کے دو پاکستانی نژاد افسران کا خواتین اسٹاف کیلئے منفرد کارنامہ

لندن : برطانوی حکام نے پاکستانی نژاد پولیس افسران کا تیار کردہ حجاب مسلمان پولیس اسٹاف کیلئے یونیفارم کا حصہ بنادیا۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی شہر نارتھ یارکشائر پولیس سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد آفیسرز عظمیٰ آمریڈی اور عرفان رؤف نے مسلمان پولیس خواتین کےلیے حجاب ڈیزائن کرنے کا کارنامہ انجام دیا جسے محکمے کی جانب سے منظور کرلیا گیا۔

حجاب کے حوالے سے کام کرنے والی مسلمان خاتون افسر عظمیٰ آمریڈی 13 برس کی عمر میں برطانیہ منتقل ہوئی تھیں جہاں انہوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد برطانوی پولیس میں بطور افسر شمولیت اختیار کی اور حجاب کے ساتھ ڈیوٹی انجام دی۔

عظمیٰ آمریڈی نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اُن کا ڈیزائن کردہ حجاب ناصرف محفوظ اور آرام دہ ہے بلکہ شرعی تقاضوں پر بھی پورا اُترتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا تیار کردہ حجاب مسلم خواتین پولیس اہلکاروں کےلیے دوران ملازمت آسانیاں پیدا کرے کیونکہ انہیں ڈیوٹی پر آنے کےلیے اپنے ایمان کا آدھا حصہ یعنی حجاب گھر پر نہیں چھوڑنا پڑے گا اور ملازمت کے دوران اپنے مذہبی فرائض بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہیں۔

دوسرے مسلمان پولیس افسر عرفان رؤف ہیں جن کا آبائی تعلق بھمبر آزاد کشمیر کے علاقے علی بیگ سے ہے وہ برطانیہ میں ہی پیدا ہوئے اور یہیں سے اپنی تعلیم حاصل کی، وہ نارتھ یارکشائر پولیس میں پازیٹو ایکشن کمپین کے کورڈینیٹر اور آپریشنل فیتھ اینڈ بیلیف کے لیڈ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

عرفان رؤف کا کہنا تھا کہ اس سارے عمل میں محکمے کا تعاون مثالی رہا ہے اور ہمیں یہ اختیار دیا گیا تھا کہ ہم خود اس کو ڈیزائن کریں اور اس دوران کسی طرح کی بھی مداخلت نہیں کی گئی بلکہ شروع سے آخر تک تعاون کیا گیا۔

اُن کا مذید کہنا تھا کہ اور یہ حجاب نارتھ یاکشائر پولیس فورس سے پورے ملک تک پھیلے گا جو مسلمان خواتین کے لیے پولیس کی ملازمت کرنے میں مذید اعتماد پیدا کرے گا۔

نارتھ یارکشائر پولیس کے ترجمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ نارتھ یارکشائر پولیس فورس کے لئے یہ یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کہ ہر پولیس افسر کی وردی مناسب ہو اور ہمیں فورس میں یہاں آباد تمام برادریوں کے افراد کی ضرورت ہے جن کی ہم خدمت کرتے ہیں تاکہ ہم سب ایک جامع افرادی قوت بن سکیں اور یہاں آباد تمام برادریوں کو بہتر خدمات فراہم کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں