حسب حال: مصوری، شاعری اور رقص کا انوکھا امتزاج painting exhibition
The news is by your side.

Advertisement

حسب حال: مصوری، شاعری اور رقص کا انوکھا امتزاج

معروف مصور تصدق سہیل کے مطابق مصوری رنگوں کی شاعری کا نام ہے، لیکن اگر کسی نمائش میں شاعری اور رقص کو بھی شامل کر لیا جائے، تو  شرکا کے لیے وہ ایک دل پذیر تجربہ بن جاتا ہے۔

کچھ ایسا ہی خوب صورت واقعہ گذشتہ دنوں کراچی کی مجموعہ آرٹ گیلری میں ”حسب حال ‘‘ کے زیر عنو ان رونما ہوا۔

تقریب میں جہاں صادقین، آزر  ذوبی اور اقبال مہدی جیسے سینئرز کے فن پارے آویزاں کیے گئے، وہاں موجودہ نسل کے فن کار ظہیر مرزا اور  علی شاہ کے فن پاروں بھی نمائش کے لئے رکھے گئے۔

اس موقع پر پروفیسر سحر انصاری کا کہنا تھا کہ فنون لطیفہ کو الگ الگ خانوں میں بانٹا نہیں جاسکتا، موسیقی ، شاعری ، فنِ تعمیر، مصوری؛ کوئی بھی شعبہ زمینی حقائق سے تعلق رکھے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ اس نمائش میں جہاں صادقین، آزر ذوبی اور دیگر سینئر مصوروں کی تصویریں دیکھیں، وہیں باصلاحیت نوجوانوں کا کام بھی سامنے آیا۔

انھوں نے کہا کہ تصویری سیر گاہ کے بعد شعر و شاعری کی محفل بھی ہوئی، جس کے بعد رقص پیش کیا گیا، اس طرح کم وقت میں ان تینوں فنون  لطیفہ کو یک جا کرنا یقیناً مہرین الہٰی کا بڑا کارنامہ ہے، یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے، کیوں کہ اس وقت دہشت گردی ، خوف، قتل و غارت گری ، ڈکیتی اور انسانی اقدار کی پامالی کے جو تجربے ہمارے معاشرے میں ہو رہے ہیں ان کا تدارک اسی طرح کیا جاسکتا ہے۔

شرکا کا کہنا تھا کہ آج کے تیز رفتار معاشرے میں ہمارا اپنی ذات سے  تعلق بہت کم  رہ گیا ہے، اس ضمن میں ایسی تقریبات سودمند ہیں، کیوں کہ فن کاروں کی معاشرتی ناہمواریوں اور ظلم کے خلاف کاوششیں  آگہی عطا کرتی ہیں۔

بلاصلاحیت نوجوان آرٹس ظہیر مرزا اور علی شاہ نے بھی اس نمائش کو فروغ فن کی مثبت کاوش قرار دیا۔

ظہیر مرزا کا کہنا تھا کہ جن معاشروں میں ادب اور آرٹ کا فقدان ہوتا ہے، وہ ہیجان زدہ ہو جاتے ہیں، انھوں نے اسی صورت حال کو موضوع بنایا ہے، جہاں معاشرتی اقدار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

شرکار نے جہاں فن پاروں کو سراہا، وہیں وہ سینئر شاعر پروفیسر سحرانصاری اور معروف شاعرہ عنبرین حسیب امبر کا کلام سن کر بھی محظوظ ہوئے۔

آخر میں مجموعہ آرٹ گیلری کی روحِ رواں مہرین الہٰی نے فن کاروں اور شرکا کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں