The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں قدیم مقامی جنگلی حیات سے متعلق منفرد وائلڈ لائف میوزیم تیار

کراچی: شہر قائد میں ایک منفرد وائلڈ لائف میوزیم تیار کر لیا گیا ہے، جس میں سندھ میں پائے جانے والے جنگلی حیات کو رکھا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ وائلڈ لائف میوزیم کراچی کو 28 سال بعد از سر نو بحال کیا گیا ہے، جہاں سندھ کے معدوم ہوتی نسل والے پرندوں اور سانپ سمیت دیگر رینگنے والے جانوروں کو رکھا گیا ہے۔

صوبے کے نایاب جنگلی جانوروں کی ممی اور تصاویر کو میوزیم کی زینت بنایا گیا ہے، میوزیم میں 19 اور 20 ویں صدی کے پرندوں اور جانوروں کی تصاویر بھی ہیں۔

تحفظ جنگلی حیات کے محکمے نے اس میوزیم میں پہاڑی توتے، تیتر، ہرن، شیر، نایاب بلی، چھپکلی، سانپ اور کئی اقسام کے پرندوں کے نمونے محفوظ کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  خیرپور میں وائلڈ لائف کی بروقت کارروائی، جنگلی ریچھ بازیاب

محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے مطابق اس میوزیم میں سندھ میں پائے جانے والے 320 اقسام اور نسلوں کے پرندوں، 135 رینگنے والے جانوروں اور حشرات، جب کہ 82 دیگر جنگلی حیات کے نمونے اور ان کی تصاویر رکھی گئی ہیں۔

محکمے کا کہنا ہے کہ یہ میوزیم رواں ماہ عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سندھ کے ریگستانی، ساحلی اور پہاڑی علاقے صدیوں سے نایاب نسل کے جانوروں اور پرندوں کا مسکن رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اندرون سندھ کے علاقے تھرپارکر میں آج بھی گوشت کے لیے نایاب ہرن کا شکار جاری ہے، رواں سال مئی میں سندھ کے علاقے فیض آباد گنج سے اسمگلرز سے نایاب جنگلی ریچھ بھی بازیاب کرایا جا چکا ہے، جسے پکڑ کر کتوں سے لڑائی کے لیے اسمگل کیا جا رہا تھا۔

گزشتہ سال محکمہ وائلڈ لائف سندھ نے ایک خفیہ اطلاع پر چھاپا مار کر کراچی کھڈا مارکیٹ سے 150 کلو گرام کچھوے کے خول اور 200 کلو گرام پین گولین کی کھالیں بھی برآمد کی تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں