The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر میں سفارت کاروں کو لے جانے کے لیے بھارت سے بات کر رہے ہیں: ایلس ویلز

بھارتی قوانین میں مسلمانوں سے متعلق امتیاز رکھا گیا ہے: امریکی نائب وزیر خارجہ کا اعتراف

واشنگٹن: امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے کہا ہے کہ کشمیر کی صورت حال کا بہ غور جائزہ لے رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر سے متعلق امریکا کو تشویش ہے تاہم امریکا کا آرٹیکل 370 کے خاتمے پر کوئی مؤقف نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق واشنگٹن میں امور خارجہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کانگریس مین نے جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گفتگو کی، تاریخ میں پہلی مرتبہ کشمیر کا معاملہ امور خارجہ کی کمیٹی میں پیش ہوا اور امریکی نائب وزیر خارجہ نے کمیٹی کے سامنے حکومتی مؤقف واضح کیا۔

ایلس ویلز نے کہا کہ نریندر مودی نے کشمیر کی حیثیت ختم کرنے سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا، آرٹیکل 370 کے خاتمے پر امریکا کا کوئی مؤقف نہیں ہے، تاہم امریکا مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حالت زار پر اپنا مؤقف رکھتا ہے۔

انھوں نے کہا 5 اگست کے بعد سے 8 ملین کشمیریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہے، کشمیر میں حالات ابھی تک معمول پر نہیں آئے، مقبوضہ کشمیر کے 3 سابق وزرائے اعلیٰ کو بھی گرفتار کیا گیا، کشمیریوں، سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کا معاملہ بھارت کے سامنے اٹھایا، بھارت سے انسانی حقوق کا احترام اور رابطوں کے ذرایع کھولنے کا کہا۔

ایلس ویلز نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کشمیر کے معاملے پر 14 نومبر کو پٹیشن سنے گا، انٹرنیٹ، ٹیلی فون سروس کھولنے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالتے رہیں گے، کشمیریوں کے پر امن مظاہروں کی امریکا حمایت کرتا ہے، کشمیر سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں، شملہ معاہدے کے تحت پاک بھارت مذاکرات کشیدگی کم کر سکتے ہیں۔

دریں اثنا، بریڈ شیرمین نے سوال کیا کہ کانگریس مین کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیوں نہیں کرنے دیا گیا، ایلس ویلز نے جواب دیا کہ بھارت نے امریکی کانگریس مین کو دورے کی اجازت نہیں دی۔ ان کے اس سوال پر کہ کیا مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے، امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا امریکا اس حوالے سے کوئی پوزیشن نہیں لے رہا، تاہم کشمیر کی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔

ایلس ویلز سے ایک اور سوال کیا گیا کہ کیا بھارت نے گرفتاریوں سے متعلق تفصیل فراہم کی ہے، انھوں نے جواب دیا کہ میں ابھی تفصیلات فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔

کمیٹی ممبر الہان عمر نے بھی ایلس ویلز سے سخت سوالات کیے، انھوں نے پوچھا کیا ہم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا احترام کرتے ہیں، ایلس ویلز نے کہا امریکا کشمیریوں کے پر امن احتجاج کی حمایت کرتا ہے۔ الہان عمر نے کہا بی جے پی کی حکومت مسلمانوں کے خلاف مہم چلا رہی ہے، آسام میں مسلمانوں کی شہریت منسوخ کر دی گئی، ایلس ویلز نے کہا کہ شہریت کی منسوخی کا معاملہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔

رکن کانگریس نے کہا کہ امریکا خود کو انسانی حقوق کا چیمپئن کہتا ہے تو کشمیر پر خاموش کیسے ہیں، بھارت کے غیر جمہوری رویے کانگریس کمیٹی کو منظورنہیں، شہریوں، سیاسی رہنماؤں کو بغیر کسی جرم کے گرفتار کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن ساؤتھ ایشیا کے چیئرمین نے بھی ایلس ویلز سے سخت سوالات کیے، کہا کشمیر پر بھارت سے بات چیت کیوں نہیں کی جا رہی؟ ایلس ویلز نے کہا بھارتی قوانین میں مسلمانوں سے متعلق امتیاز رکھا گیا ہے، مقبوضہ کشمیرمیں سفارت کاروں کو لے جانے کے لیے بات کر رہے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں