The news is by your side.

Advertisement

یوکرین تنازعہ: امریکا کا دہرا معیار سامنے آگیا

کیف: روس اور یوکرین تنازعے پر امریکا کا دہرا معیار جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق روس کی جانب سے یوکرین پر ممکنہ حملوں پر امریکا کی جانب سے آئے روز روس کے لئے دھمکی آمیز بیانات داغے جارہے ہیں اس کے برعکس امریکا نے دونوں ممالک کو جنگ کے ایندھن میں ڈالنے کی غرض سے یوکرین کو 15 سو ٹن گولہ بارود مہیا کردیا ہے۔

یوکرینی وزیر دفاع نے امریکا کی جانب سے گولہ بارود ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے مزید بتایا کہ لتھوانیا نے بھی طیارہ شکن میزائل اور گولہ بارود کی بھاری کھیپ فراہم کردی ہے ، ساتھ ہی ہم اتحادیوں کی مدد سے اپنی فوج کو مضبوط کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرین تنازع کیسے شروع ہوا؟ روسی جارحیت کا سبب جانیے

دوسری جانب پینٹاگون کا کہنا ہے کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر بڑاحملہ کر سکتا ہے،لیکن یہ تصدیق نہیں کی جاسکتی کہ حملہ بدھ کے روز ہی ہوگا۔

ترجمان پینٹاگون جان کربی کا کہنا ہے کہ روسی حملے کی درست وقت کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

ادھر امریکی قومی سلامتی مشیر جیک سیلوان بھی کہتے ہیں کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملے کا انتباہ جاری کردے گا، روس کو یوکرین پر حملے سے باز رکھنے کے لیے سفارتکاری کا عمل جاری ہے۔

گذشتہ روز یوکرین تنازعے کی شدت کم کرنے کےلیے روسی اور امریکی صدور کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جو دھمکیوں پر اختتام ہوا جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں