واشنگٹن(3 مارچ 2026): ایران کے خلاف امریکی فوجی اقدامات پر امریکا کے اندر شدید سیاسی تنازع پیدا ہو گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس میں صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کے خلاف پیش کی گئی قرارداد پر رواں ہفتے ووٹنگ متوقع ہے، جس کا مقصد صدر کو مزید فوجی کارروائیوں سے روکنا ہے۔
ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ ‘وار پاورز ایکٹ’ کے تحت صدر پر لازم ہے کہ وہ کسی بھی بڑی فوجی کارروائی سے پہلے کانگریس سے مشاورت کریں اور اس کی منظوری لیں۔
دوسری جانب، امریکی صدر نے ایران پر کیے گئے حالیہ محدود فضائی حملوں کا دفاع کیا ہے، حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں اب تک 550 سے زائد عام ایرانی شہری مارے جاچکے ہیں۔ ان ہلاکتوں کے بعد کانگریس نے ٹرمپ انتظامیہ سے فوری وضاحت طلب کر لی ہے۔
واضح رہے کہ جون 2025 میں ایرانی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں میں بھی سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جس کے بعد اب دوبارہ کشیدگی عروج پر ہے۔
ایران پر حالیہ حملوں کے بعد وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان محاذ آرائی بڑھ گئی ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس ہفتے ہونے والی ووٹنگ صدر کے اختیارات کو محدود کرنے میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


